دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 441
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 441 یعنی حذر سے مراد لڑائی ہے۔مثلاً ہتھیار وغیرہ کا مہیا ہونا ضروری ہے اور حدیثوں سے بھی اس کی تاکید معلوم ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ بغیر ہتھیار کے کیا کرے گا۔تیسری شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قلعہ یا ملک جائے امن ہو کہ ان کا ماویٰ و ملجا ہو چنانچہ قرآن کے لفظ مِن قوة کی تفسیر عکرمہ نے قلعہ کی ہے۔قَالَ عِكْرمة الْقُوَّةُ الْحُصُونُ انْتَهَى مَا فِي الْمَعَالِمِ التَّنْزِيْلِ لِلْبغوی اور حضرت علی ایم نے جب تک مدینہ میں ہجرت نہ کی اور مدینہ جائے پناہ نہ ہوا جہاد فرض نہ ہوا، یہ صراحةً دلالت کرتا ہے کہ جائے امن ہونا بہت ضروری ہے۔چوتھی شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کا لشکر اتنا ہو کہ کفار کے مقابلہ میں مقابلہ کر سکتا ہو یعنی کفار کے لشکر 66 سے آدھے سے کم نہ ہو۔“ (فتاویٰ نذیریہ جلد سوم ص282-284) اس فتویٰ سے ظاہر ہے کہ جہاد امام وقت کے حکم اور اس کی اتباع کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر امام الزمان قتال سے روک رہا ہو تو پھر اس کو جہاد نہیں قرار دیا جا سکتا۔دراصل یہ اعتراض تو احمدیوں پر ہو ہی نہیں سکتا۔اس ضمن میں ان کے عقائد تو بہت واضح ہیں۔اگر الزام آتا ہے تو ان فرقوں پر آتا ہے جن کے عقائد تو یہ تھے کہ قتال فرض ہے اور سو سال انگریز نے ان پر حکومت کی اور وہ محض ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے۔بلکہ لاکھوں کی تعداد میں انگریز کی فوج میں شامل ہو کر ان کی طرف سے لڑتے رہے بلکہ اس مقصد کے لئے مسلمانوں پر بھی گولیاں چلاتے رہے اور جب انگریز یہاں سے رخصت ہو گیا تو انہیں یاد آیا کہ انگریز سے لڑنا بہت ضروری تھا اور احمدیوں پر اعتراض شروع کر دیا کہ وہ جہاد کے قائل نہیں۔