دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 405
405 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہونے کے بعد بھی یہ سپاہی ہاتھ جوڑ کر یہ کہتے تھے کہ ہم آپ کے نمک حلال ہیں، ہمیں آپ نے ہی پالا ہے اور ہم نے انگریز حکومت کی خاطر سر کٹوانے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔یہ پاکستان میں ہونے والی جعلی تاریخ سازی کا کرشمہ ہے کہ انگریزوں کے سب سے بڑے آلہ کار کو ان کے خلاف جہاد کرنے والے مجاہدین کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔(تفصیلات کے لئے ملاحظہ کیجئے داستان غدر کا صفحہ 46 اور 47 اور 50) بہر حال 1857ء کی جنگ کے متعلق جواب ختم ہوا۔حضور نے اس ضمن میں بہت سے ٹھوس حقائق پیش کئے اور مندرجہ بالا حوالوں میں سے بھی کئی پیش کئے گئے۔حضور نے بعض اور پیش کردہ حوالوں کی حقیقت بیان فرمانی شروع کی۔66 جیسا کہ ہم ذکر چکے ہیں پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف "سیرت الابدال کے 193 صفحہ کا حوالہ پیش کر کے سوال کیا تھا۔ابھی جماعت کے وفد نے اس کی تردید یا تصدیق کرنی تھی۔اس مرحلہ پر حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے اس حوالہ کے متعلق فرمایا:۔”اس کا جواب یہ ہے کہ ” سیرت الابدال “ جو کتاب ہے اس کے صرف سولہ صفحے ہیں۔تو ان سولہ صفحوں میں سے وہ کون سا 193 page تلاش کیا گیا ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے۔کتاب کے سارے صفحے ہی سولہ ہیں۔“ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اب ممبران اسمبلی کے کئے گئے سوالات کی حقیقت خوب ظاہر ہو رہی تھی۔انہیں ایک کے بعد دوسری شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔غالباً اٹارنی جنرل صاحب کی کوشش تھی۔وہ کم از کم اس خفت سے بچ جائیں کہ سولہ صفحے کی کتاب کے صفحہ نمبر 193 کا حوالہ پیش کرنے کی سعادت ان کے حصے میں آئی ہے۔ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔انہوں نے کہا:۔