دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 374 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 374

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 374 فاروق علی خان صاحب نے کہا کہ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ ہم باقیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں مسلمان جانتے ہیں لیکن راسخ العقیدہ مسلمان نہیں سمجھتے۔یہاں ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ایک فرقہ اپنے عقائد کو صحیح سمجھ رہا ہو تو وہ اس کے خلاف عقائد رکھنے والے فرقہ کو راسخ العقیدہ کیسے کہہ سکتا ہے۔اگر کسی بھی فرقہ سے پوچھا جائے تو یہی کہے گا کہ ہمارے نزدیک ہم راسخ العقیدہ ہیں اور دوسرے نہیں ہیں لیکن اس کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب نے اس قسم کا کوئی بھی اظہار نہیں کیا تھا کہ آپ بھی مسلمان ہیں اور ہم بھی مسلمان ہیں۔پھر ہم نے پروفیسر غفوراحمد صاحب سے ملاقات کی اور ان کا انٹرویو لیا۔جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ پروفیسر غفور صاحب اس وقت قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر تھے اور جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل بھی تھے۔اور انہوں نے ہمارے سوال کئے بغیر خود ہی اس جواب کا ذکر کیا اور ان کے نزدیک بھی اصل بات یہی تھی کہ اسمبلی نے احمدیوں کو غیر مسلم نہیں کہا تھا بلکہ احمدیوں نے غیر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔پہلے تو یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے بشیر الدین صاحب آئے تھے لیکن اس پر ہم نے انہیں یاد دلایا کہ حضرت خلیفة المسیح الثانی نہیں بلکہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب قومی اسمبلی میں جماعت کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔پھر پروفیسر غفور صاحب نے کہا کہ جماعت احمدیہ مبائعین کی طرف سے حضرت خلیفة المسیح الثالث اور غیر مبائعین کی طرف سے ان کا وفد قومی اسمبلی میں پیش ہوئے تو انٹرویو میں اس سوال کے بارے میں پروفیسر غفور صاحب کے معین الفاظ یہ تھے:۔”جی مرزا ناصر احمد صاحب اور لاہوری فرقہ کے لوگ بھی آئے تھے۔اور دونوں کے ساتھ گفتگو ہوئی تھی اور گفتگو اس طرح ہوئی تھی بیٹی بختیار کے۔۔۔Through پھر یہ بات بھی کہی کہ مرزا غلام احمد کو جو نہیں مانتا وہ