دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 345
345 وو دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری میں ایک شخص کو نبوت کا مقام مل سکتا ہے چنانچہ ایک کتاب " مرزائیت نئے زاویوں سے “ میں مصنف لکھتا ہے:۔اب رہی یہ بحث کہ صوفیاء کرام نے نبوت کے معنی میں یہ توسیع کیوں فرمائی کہ اس کا اطلاق اولیاء پر بھی ہو سکے تو یہ ایک لطیف بحث ہے۔ہماری تحقیق یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری صوفیاء کے اس تصور پر عائد ہوتی ہے جو انہوں نے نبوت سے متعلق قائم کیا۔انہوں نے یہ سمجھا کہ کمالات نبوت ایسی چیز ہے جو سعی اور کوشش سے حاصل ہو سکتی ہے۔زہد و ریاضت اور اللہ کی خوشنودی کے حصول میں جد و جہد انسان کو اس حد تک پہنچا دیتی ہے کہ اس کا آئینہ دل اتنا مجلا اور شفاف ہو جائے کہ غیب کے انوار و تجلیات کی جھلک اس پر منعکس ہو۔ان کا دل مہبط وحی قرار پائے اور اس کے کان طرح طرح کی آوازیں سنیں یعنی مقام نبوت یا محد ثیت اور بالفعل نبوت کا حصول یہ دو مختلف چیزیں نہیں۔مقام نبوت سے مراد عمل و فکر کی وہ صلاحیتیں ہیں جو بشریت کی معراج ہیں۔اُن تک رسائی کے دروازے امتِ محمدیہ پر بلاشبہ کھلے ہیں۔شوقِ عبودیت اور ذوق عبادت شرط ہے۔جو بات ختم نبوت کی تصریحات کے بعد ہماری دسترس سے باہر ہے۔وہ نبوت کا حصول ہے کہ اس کا تعلق یکسر اللہ تعالیٰ کے انتخاب سے ہے۔یعنی یہ اس پر موقوف ہے کہ اس کی نگاہِ کرم اس عہدہ جلیلہ کے لئے اپنے کسی بندے کو چن لے۔جس میں نبوت کی صلاحیتیں پہلے سے موجود ہوں اور جو مقام نبوت پر پہلے سے فائز ہو۔اب چونکہ نامزدگی کا یہ سلسلہ بند ہے۔اس لئے کوئی شخص ان معنوں میں تو نبی ہر گز نہیں ہو سکتا کہ اس کاماننا دوسروں کے لئے ضروری ہو اور اس کے الہامات دوسروں پر شرعاً حجت ہوں۔البتہ مقام نبوت یا نبوت کی صلاحیتیں اب بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔نبوت کے اس تصور سے چونکہ نبوت مصطلحہ اور ولایت کے اس مقام میں بجز نامزدگی کے اور کوئی بنیادی فرق نہیں رہتا۔اس لئے وہ حق بجانب ہیں کہ اس کو بھی ایک طرح کی نبوت قرار دیں کہ دونوں فطرت و حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔“