دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 337 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 337

337 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں بلکہ یہ اختیار بھی رکھتی تھی کہ یہ فیصلہ کرے کہ کس نبی کا دائرہ کار کیا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے اس نکتے کی وضاحت نہیں فرمائی کہ جو بات قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے وہ کس طرح تبدیل ہو گئی اور کس نے اسے تبدیل کر دیا ؟ اس مرحلہ پر پہنچ کر اٹارنی جنرل صاحب یہ سوال بار بار اُٹھا رہے تھے کہ اگر بانی سلسلہ احمدیہ امتی نبی تھے تو کیا اب ان کے بعد کوئی اور نبی ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں ہو سکتا تو کیوں نہیں ہو سکتا ؟ اب یہ سوالات کا لا یعنی سلسلہ تھا۔اس بارے میں جماعتِ احمدیہ کا جو بھی عقیدہ ہے اس کے قطع نظر قومی اسمبلی کا یہ کام نہیں کہ وہ بیٹھ کر یہ فیصلہ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے کب نبی مبعوث کرنا ہے اور کب نہیں کرنا۔موسوی سلسلہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا تھا۔اب کوئی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام نبی تھے تو ان کے بعد کوئی اور نبی کیوں نہیں مبعوث ہوا۔اس مرحلہ پر کچھ دیر کے لئے یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ شاید اب یہ کارروائی اپنے اصل موضوع کی طرف آ جائے اور وہ موضوع یہ مقرر ہوا تھا کہ جو شخص آنحضرت لیلی لی ایم کو آخری نبی نہیں مانتا اس کا اسلام میں کیا status ہے۔اور اس مرحلہ پر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے بڑے جامع انداز میں یہ بیان فرمایا تھا کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی کیا ہیں اور آنحضرت صلی للی نام کا اعلیٰ اور ارفع مقام کیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ کیا تھا۔اور جب حضور نے یہ لطیف نکتہ بیان فرمایا کہ تیرہ سو سال سے امت احمد یہ ایک ایسے مسیح کی منتظر رہی جس کے متعلق آنحضرت صلی الیم نے نبی کا لفظ بیان فرمایا تھا اور وہ پھر بھی آنحضرت صلی ا یلم کی ختم نبوت کے قائل تھے۔تو پھر اٹارنی جنرل صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ اصل موضوع کے بارے میں سوالات اُٹھاتے اور بحث ایک ٹھوس رنگ اختیار کرتی لیکن جیسا کہ ہم جائزہ لیں گے کہ ایک بار پھر اٹارنی جنرل صاحب اصل موضوع سے کترا کے نکل گئے اور ایک بار پھر یہ واضح ہو رہا تھا کہ ارباب حل