دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 28
28 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری صاحب کے ہی مطابق بھٹو صاحب اور مودودی صاحب کی ملاقات ہوئی۔اس میں بھٹو صاحب نے مودودی صاحب سے تعاون کی اپیل کی اور یہ اپیل بھی کی کہ مودودی صاحب قادیانیوں اور کمیونسٹوں کی سرگرمیوں بلکہ بقول ان کے سازشوں کے معاملے میں ان سے تعاون کریں۔پھر اس ملاقات کے بعد بھٹو صاحب اور مودودی صاحب مطمئن نظر آتے تھے اور کھر صاحب بھی بہت مسرور تھے کہ جس سیاسی بحران نے ان کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں اس کا حل اب نکل آئے گا۔تو اس طرح ایک بار پھر سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے جماعتِ احمدیہ پر مظالم کا سلسلہ شروع کیا جا رہا تھا (1) یہ بیان تو مصطفے صادق صاحب کا ہے۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے جو کہ بھٹو صاحب کی کابینہ کے ایک اہم رکن تھے ، اس بات کی بابت استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تو مشکل ہے کہ بھٹو صاحب نے مصطفے صادق صاحب سے رابطہ کیا ہو کیونکہ وہ انہیں اس قابلیت کا آدمی نہیں سمجھتے تھے لیکن یہ عین ممکن ہے کہ مودودی صاحب سے رابطہ کیا گیا ہو اور کھر صاحب کو کہا گیا ہو کہ ان سے رابطہ کریں۔لیکن اس کے ساتھ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت بھٹو صاحب کو احمدیوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔جب ہم نے مذکورہ بالا واقعہ کے بارے میں پروفیسر غفور صاحب سے استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔اور عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب نے بھی اس بابت سوال پر یہی کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے۔لیکن گیارہ اپریل 2012 کو دنیانیوز چینل پر ایک پروگرام "تلاش" پر غلام مصطفے کھر صاحب کا انٹر ویو نشر ہوا۔اور اس میں انہوں نے کہا کہ اس وقت مصطفے صادق صاحب نے خود اپنی خدمات انہیں پیش کی تھیں اور انہوں نے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی ا کے قائد مودودی صاحب کا رابطہ کر آیا تھا۔اور مودودی صاحب نے پیپلز پارٹی کے ساتھ آئین کے ضمن میں جو لائحہ عمل طے کیا تھا، خود ان کی پارٹی کے قائدین اس سے بے خبر تھے لیکن وہ اپنی پارٹی کی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو اطلاعات دے رہے تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ متفقہ آئین کے لئے جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کیا۔اسی پروگرام میں پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر اور بھٹو صاحب کے قریبی ساتھی ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے یہ اعتراف کیا کہ بھٹو صاحب چاہتے تھے کہ آئین متفقہ طور پر منظور ہو اور اس غرض کے لئے انہیں مولوی ممبران اسمبلی کی حمایت بھی درکار تھی۔اور یہ حمایت حاصل کرنے کے لئے کم از کم ایک مولوی رکن اسمبلی کو بھٹو صاحب نے خود اپنے ہاتھ سے رشوت بھی دی تھی اور یہ کیا تھا کہ ان مولوی صاحب کو اپنے دفتر میں بلایا اور جور قم بطور رشوت دینی تھی وہ دفتر میں ادھر اُدھر پھینکی اور ان سے کہا کہ یہ نوٹ اُٹھا لو اور ان مولوی صاحب نے گھٹنوں کے بل رینگ رینگ کر فرش سے یہ نوٹ اُ