دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 256 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 256

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 256 کے قریب ترین الفضل جو شائع ہوئے تھے ان کے نمبر ہی اس بات کو واضح کر دیتے ہیں کہ اس روز الفضل شائع نہیں ہوا تھا اور وہ نمبر یہ تھے۔28 جنوری 1915ء جلد نمبر 2 نمبر 97 31 جنوری 1915ء جلد نمبر 2 نمبر 98 اور یہ عبارت الفضل میں شائع ہی نہیں ہوئی۔ا اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بات ختم کی۔اب اٹارنی جنرل صاحب بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ ممبران قومی اسمبلی ایک عجیب صورت حال سے دوچار ہو چکے تھے۔انہوں نے بہت سے حوالے جمع کر کے ایک کیس تیار کیا تھا لیکن اب یہ ہو رہا تھا کہ وہ ایک کتاب کا حوالہ پیش کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس کتاب کا کوئی وجود ہی نہیں۔کبھی وہ ایک کتاب کا صفحہ نمبر بتاتے تو حقیقت یہ سامنے آتی کہ اس کتاب کے اتنے صفحات ہی نہیں۔اگر کتاب کا نام مصنف کے نام سمیت بتایا جاتا تو عقدہ یہ کھلتا اس مصنف نے کبھی کوئی کتاب اس نام سے نہیں لکھی۔اگر یحییٰ بختیار صاحب قسمت سے کوئی معین عبارت پڑھتے تو آخر کار یہ انجام ہمارے سامنے ہے کہ اصل میں اس کتاب میں یہ معین عبارت موجود ہی نہیں۔کسی اخبار کا حوالہ پڑھا تو انجام یہ ہوا کہ یہ ثابت ہو گیا کہ اس روز تو یہ اخبار شائع ہی نہیں ہوا۔اٹارنی جنرل صاحب جانتے تھے کہ ان کی بہت سی غلطیاں تو ابھی سے سامنے آچکی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ ابھی جب تحقیق ہو گی تو بہت سی مزید غلطیاں سامنے آئیں گی۔اس کا جواز پیدا کرنے کی انہوں نے جو کوشش کی وہ انہی کا حصہ ہے۔حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے ابن تیمیہ کی ایک کتاب کتاب الایمان “ کا حوالہ دیا اور اپنے ممبرانِ وفد کو کتاب دینے کا