دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 244 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 244

244 ہے۔دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری مسجد کی تھی۔اس کے اوپر کوفی رسم الخط میں کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا اور اس رسم الخط میں محمد کی پہلی میم کو لمبا کر کے لکھا گیا تھا۔اور اس کو دکھا کر اٹارنی جنرل صاحب یہ باور کروانے کی کوشش فرما رہے تھے یہ محمد رسول اللہ نہیں لکھا تھا بلکہ احمد رسول اللہ لکھا تھا یعنی کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ احمدیوں کا تو کلمہ ہی مسلمانوں سے علیحدہ حضور نے اس امر پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا کلمہ اگر دوسرا تھا تو ہر جگہ پر دوسرا ہونا چاہئے تھا ، یہ ممکن نہیں تھا کہ ہمارا کلمہ دوسرا تھا اور یہ صرف ایک جگہ پر لکھا ہے ،باقی مقامات پر وہ کلمہ لکھا ہے جس پر ہمارا ایمان نہیں ہے۔یہ الزام ہی بچگانہ تھا اور اٹارنی جنرل صاحب خود بھی اس سوال کو کر کے ایک مخمصے میں پھنس گئے تھے۔آغاز میں ہی انہوں نے کچھ بے یقینی سے کہا کہ یہ Impression پڑتا ہے کہ احمد رسول اللہ لکھا ہے۔May be it is محمد رسول اللہ۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے انہیں تو خود یقین نہیں تھا کہ یہ الزام معقول بھی ہے کہ نہیں۔کبھی وہ کہتے تھے کہ محمد لکھا ہوا ہے پھر کہتے کہ احمد لکھا ہوا لگ رہا حضور نے فرمایا کہ ہماری سینکڑوں مساجد دنیا کے مختلف ممالک میں ہیں ان میں سے صرف ایک مسجد کو منتخب کر کے شور مچایا گیا ہے کہ ان کا کلمہ مختلف ہے۔اس مرحلہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا کہ اس لفظ کی دوسری میم پر تشدید نظر آ رہی ہے ، احمد کے اوپر تشدید کہاں ہوتی ہے۔اب بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کسی کے کہنے پر یہ نا پر یہ نا معقول سوال تو اُٹھا چکے تھے لیکن اب اس تشدید کا کیا کرتے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ محمد لکھا ہوا ہے احمد ہو ہی نہیں سکتا۔انہوں نے عاجز آکر کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ یہ Verify کر دیں کہ یہ صرف لا اله الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہے۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ ” ہے ہی یہ جب سے ہم پیدا ہوئے ، ہوش نہیں سنبھالی تھی تو لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہمیں سکھایا گیا۔اب یہ اعتراض ہو گیا عجیب بات ہے۔“ اس مثال سے یہ بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں جو سوالات اُٹھائے جا ہے۔