دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 226
226 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تحقیقات میں ان سے اس بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ آج تک اپنے خیالات پر قائم ہیں(56)۔اس اسمبلی میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے چند ممبران بھی موجود تھے کیا وہ بھول گئے تھے کہ ان کے راہبر اور ان کی پارٹی کے بانی نے کسی دھڑلے سے لکھا تھا:۔مگر افسوس کہ لیگ کے قائد اعظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرزِ فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔یہ لوگ مسلمان کے معنی و مفہوم اور اس کی مخصوص حیثیت کو بالکل نہیں جانتے۔“ (57) گویا قائد اعظم کو تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ مسلمان لفظ کا مفہوم ہے کیا اور اب ان کو یہ فکر بہت تھی کہ قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا گیا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت جماعت احمدیہ پر اعتراض کرنے میں پروفیسر غفور صاحب پیش پیش تھے اور انہوں نے خود بیان دیا تھا کہ انہوں نے اور ان کی جماعت کے امیر میاں طفیل محمد صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا اور اس کی وجہ یہ بیان کی تھی کہ یہ ضروری نہیں تھا۔(روزنامہ مساوات 27 فروری 1978ء) اور آج یہ اعتراض اُٹھایا جا رہا تھا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تھا؟ اور یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ احمدیوں پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے شبیر عثمانی صاحب کی اقتداء میں قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں نہیں ادا کی؟ یہ امر کس طرح فراموش کیا جا سکتا ہے کہ شبیر عثمانی صاحب نے نہ صرف یہ اعلان کیا تھا کہ احمدی مرتد ہیں بلکہ اس وجہ سے احمدیوں کے واجب القتل ہونے کا تحریر ی فتویٰ بھی دیا تھا اور اس امر کا ذکر 1953ء میں فسادات پر ہونے والی عدالتی تحقیقات کی رپورٹ میں