دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 20
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری جماعت کی مخالفت میں تیزی آتی ہے 20 20 تمام تر کوششوں کے باوجود وہ جماعتیں جو مذہبی جماعتیں کہلاتی تھیں آپس میں اتحاد نہیں کر پارہی تھیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار تھیں۔اس پر مستزاد یہ کہ انہیں یہ بات بری طرح چھ رہی تھی کہ اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے کئی احمدی انتخابی عمل میں حصہ کیوں لے رہے ہیں۔ان کے نزدیک اگر احمدی اپنے شہری حقوق کے مطابق اس عمل میں حصہ لیں تو یہ ایک بہت بڑا جرم تھا۔وہ اپنے علاوہ باقیوں کو ملک کا دوسرے درجہ کا شہری سمجھتے تھے۔اب وہ اس حوالے سے پیپلز پارٹی پر حملے کر رہے تھے تا کہ اس طرح ایک طبقہ کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے اشد مخالف جریدے چٹان نے انتخابات سے دو ہفتہ قبل 23 / نومبر کے شمارے کے سرورق پر ایک تصویر شائع کی جس میں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بھٹو صاحب کو ایک پرندے کی صورت میں دکھایا گیا تھا۔اس کے ایک پر کے اوپر لکھا تھا مرزائیت اور دوسرے پر کے اوپر لکھا تھا کمیونزم۔اس شمارے کے آغاز میں ہی یہ واویلا کیا گیا تھا کہ جس دن سے گول میز کانفرنس ختم ہوئی ہے ہم اس دن سے چلا رہے ہیں ”بھٹو نے اس بر عظیم کی سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ مرزائیوں کو سیاسی پناہ دے کر اپنا دست و باز و بنایا اور انتخابی میدان میں مسلمانوں کے علی الرغم لا کھڑا کیا۔بھٹو مسلمانوں کی اسلام سے شیفتگی کو نئی پود کے سینے سے نکال رہا اور جن شخصیتوں پر مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا انحصار رہا ہے، ان کی عقیدت نئی نسل سے ختم کرنا چاہتا ہے۔“ (16) بعض اخبارات میں یہ خبریں شائع کی جارہی تھیں کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے اہم کارکنان اسے چھوڑ رہے ہیں اور ان میں سے بعض کے یہ بیان بھی شائع کئے جاتے تھے کہ ہم پیپلز پارٹی کو اس لئے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اس نے جماعت احمدیہ سے اتحاد کر لیا ہے (17)۔یہ شور و غل ان کی اپنی ذہنی بوکھلاہٹ کی عکاسی کر رہا تھا اور نہ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ جماعتِ احمدیہ کا کسی سے سیاسی اتحاد ہو ہی نہیں سکتا۔البتہ بعض مخصوص حالات میں اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت کے لیے پاکستانی احمدیوں نے اپنا قانونی حق استعمال کیا تھا اور اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔