دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 189 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 189

189 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تک کہ اپنے افعال سے توبہ کر کے انہیں ترک نہ کر دیں کفر تو کرتے تھے لیکن یہ ان کا اور خدا تعالیٰ کے درمیان معاملہ تھا۔گو ان احادیث کی رو سے ان افعال کے مرتکب افراد خدا کی نظر میں دائرہ اسلام سے تو خارج ہو جاتے تھے لیکن اس دنیا میں ملتِ اسلامیہ میں شامل رہتے ہیں اور انہیں غیر مسلموں میں ہر گز شمار نہیں کیا جاتا اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ رسولِ کریم صلی اہل علم نے خود اس امر کو اچھی طرح واضح فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا:۔”جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کو اپنا قبلہ بنایا اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور رسول کی امان ہے پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی امان میں بے وفائی نہ کرو۔“ (صحیح بخاری ، کتاب الصلوة - باب 269) اور اس سے اگلی حدیث میں ہے کہ جس نے لا إِلهَ إِلَّا الله کہا ، ہماری طرح نماز پڑھی ہمارے قبلہ کو اپنایا، ہمارا ذبیحہ کھایا تو ان کا خون ہمارے لئے حرام ہے اور ان کا حساب لینا اللہ تعالیٰ پر ہے۔اس مضمون کی احادیث دوسری معتبر کتب احادیث میں بھی بیان ہوئی ہیں مثلاً سنن ابی داؤد کتاب الجہاد میں اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھا، ہمارے قبلہ کو اپنا قبلہ بنایا ، ہمارا ذبیحہ کھایا اور ہماری نماز پڑھی اس کا خون ہم پر حرام ہے ، جو مسلمانوں کا حق ہے وہ ان کا حق ہے اور ان پر وہ حق ہے جو مسلمانوں پر ہے۔ان احادیث سے یہ صاف طور پر ظاہر ہے کہ قانونی طور پر جو مذکورہ بالا معیار پر پورا اترے وہ مسلمان شمار ہو گا اور اس کو عرف عام میں مسلمان ہی کہا جائے گا اور وہ ملت اسلامیہ ہی حصہ سمجھا جائے گا اور ان کے باقی اعمال کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔اگرچہ پہلے بیان شدہ احادیث میں بہت سے ایسے اشخاص کے متعلق کہا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے اعمال کے نتیجے میں کفر کیا ہے۔یہ امر قرآن کریم کے الفاظ کی معروف ترین لغت مفردات امام راغب میں بھی بیان ہوا ہے۔مفردات امام راغب میں لفظ کا