دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 179
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 179 صاحب ایک طویل بحث کر کے یہ ثابت کر رہے تھے کہ اگر آپ نے انگریزی کی تحریر میں مسٹر مودودی لکھ دیا ہے تو اس سے شدید تحقیر ظاہر ہوتی ہے۔نہ ابھی بیٹی بختیار صاحب اس جنجال سے باہر نہیں نکلے تھے کہ انہوں نے اپنے دلائل کی زنبیل میں سے ایک اور دلیل باہر نکالی۔اور کہا کہ انگلستان میں جماعت احمدیہ نے ایک ریزولیشن پاس کیا ہے جس میں Non Ahmadiyya Pakistani کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔مطلب یہ تھا کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہیں کہا گیا۔اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ خبر وہاں کے اخباروں میں آئی ہے آپ بے شک Verify کر لیں۔اور کہا کہ اس کی ایک کاپی حضور کو دی جائے۔یہ حوالہ دکھا کر يجي بختیار صاحب نے یہ اعتراض کیا ”آپ ریفر کر رہے ہیں مسلمانوں کو عام طور پر as non-Muslims 66 یہ ان کا ایک بے جان اعتراض تھا۔ان الفاظ سے کہیں یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ غیر احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم کہا جا رہا ہے۔اس کا صرف یہ مطلب تھا کہ وہ پاکستانی جو کہ جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتے اور پاکستان میں صرف مسلمان نہیں رہتے بلکہ عیسائی بھی رہتے ہیں ، ہندو اور پارسی بھی رہتے ہیں۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت صاحب نے وضاحت کے لیے کہا کہ اس کاپی پر تو کسی اخبار کا نام نہیں ، یہ کس اخبار کا حوالہ ہے۔تو اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کس اخبار میں خبر آئی تھی جس کا وہ حوالہ دے رہے تھے، انہوں نے صرف یہ کہہ کر اپنی جان چھڑائی کہ یہ مجھے ڈائرکٹ ملا ہے۔میں معلوم کروں گا کہ کس اخبار میں خبر آئی تھی۔اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے کارروائی سے قبل کوئی سنجیدہ تیاری نہیں کی تھی۔