دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 146
146 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری نبی نہیں سمجھتا ، اس کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس موضوع کے متعلق سوالات ہوں۔یا پھر اگر جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کے متعلق سوالات ہوتے تو بات کم از کم سمجھ میں بھی آتی مگر اس فرمائش سے تو لگتا تھا کہ اس کارروائی کے کرتا دھرتا افراد کا ذہن کہیں اور ہی جا رہا تھا۔لیکن ان کو صدر انجمن احمدیہ کی جانب سے یہ جواب دیا گیا کہ یہ میمورنڈم اور پروفیسر سپیٹ کی تجاویز تو حکومت کے پاس ہی ہوں گی کیونکہ ان کو مسلم لیگ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔یہ سب کاغذات حکومت کی تحویل میں ہی تھے اور جنرل ضیاء الحق صاحب کے دور میں ان کو شائع بھی کر دیا گیا تھا۔اب جو بھی سوالات اُٹھنے تھے ان کے جوابات کے لئے حوالہ جات کی ضرورت ہو ئی تھی تاکہ صحیح اور مناسب حوالہ جات کے ساتھ جوابات سپیشل کمیٹی کے سامنے آئیں۔اب کسی جرم کی تفتیش تو نہیں ہو رہی تھی کہ پہلے سے سوال بتا دینا مناسب نہ ہوتا۔عقائد کے متعلق ہی کارروائی ہوئی تھی۔چنانچہ جماعت کی طرف سے یہی مطالبہ کیا گیا کہ جو سوالات سپیشل کمیٹی میں ہونے ہیں وہ اگر ہمیں مہیا کر دیئے جائیں تاکہ متعلقہ حوالہ جات بھی سوالات کے ساتھ پیش کئے جاسکیں کیونکہ وہاں پر جماعت کے وفد کے پاس نوے سال پر پھیلا ہوا لٹریچر تو مہیا نہیں ہونا تھا۔بہر حال 25 جولائی 1974ء کو قومی اسمبلی کے دفتر کی طرف سے ایڈیشنل ناظر اعلیٰ کو جواب موصول ہوا کہ سٹیرنگ کمیٹی نے اس پر غور کر کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سوالات قبل از وقت مہیا نہیں کئے جا سکتے البتہ اگر کسی سوال کی تیاری کے لئے وقت درکار ہوا تو وہ دے دیا جائے گا۔اس خط سے یہ بھی اندازہ ہوتا تھا کہ قومی اسمبلی اور اس کے عملہ نے اس اہم کارروائی کی کوئی خاص تیاری نہیں کی ہوئی کیونکہ اس خط کے آغاز میں اور اس کے بعد بھی یہ لکھا ہوا تھا کہ اس موضوع پر انجمن احمدیہ کے ہیڈ سے زبانی بات ہوئی تھی اور اس خط سے یہ تاثر ملتا تھا کہ لکھنے والے کے ذہن میں ہے کہ جماعت کے وفد کی قیادت انجمن کے سربراہ کر رہے ہیں۔حالانکہ ناظر اعلیٰ یا صدر صدر انجمن احمدیہ سے اس موضوع پر کوئی زبانی بات ہوئی ہی نہیں