دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 145
145 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حضرت خلیفة المسیح الثالث " سمبلی میں محضر نامہ پڑھتے ہیں 22 اور 23 جولائی 1974ء کو حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے پوری قومی اسمبلی پر مشتمل خاص کمیٹی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا جانے والا محضر نامہ خود پڑھ کر سنایا اور اس کے بعد کارروائی کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ اس محضر نامہ کے آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شوکت تحریر درج کی گئی تھی اور جب حضور نے کمیٹی میں یہ حوالہ پڑھ کر سنایا تو اس کا ایک خاص اثر پر ہوا اور بعد میں ایک ممبر اسمبلی نے اپنے ایک احمدی دوست کے ساتھ حیرت سے ذکر کیا کہ مرزا صاحب نے بڑے جلال سے یہ حوالہ پڑھ کر سنایا ہے اور جیسا کہ بعد میں ذکر آئے گا اس کارروائی کے آخر میں ممبران قومی اسمبلی کے اصرار پر یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ اس حوالہ کو درج کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ (7،6) قومی اسمبلی اور صدر انجمن احمدیہ کے درمیان 22 / جولائی 1974ء کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری نے ناظر صاحب اعلیٰ کے نام ایک خط لکھا۔جس میں کچھ حوالے بھجوانے کا کہا گیا تھا۔یہ خط جو کہ دراصل سیکریٹری صاحب قومی اسمبلی نے مولوی ظفر انصاری ایم این اے کے ایک خط پر کارروائی کرتے ہوئے لکھا تھا۔اس خط سے یہ بخوبی ظاہر ہو جاتا تھا کہ خود قومی اسمبلی کو بھی نہیں معلوم کہ اس نے یہ کارروائی کس سمت میں کرنی ہے۔اس خط میں لکھا گیا تھا جماعت احمدیہ اس میمورنڈم کی کاپی بھجوائے جو کہ تقسیم ہند کے موقع پر جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔اور پروفیسر سپیٹ (Spate) جن کی خدمات حضرت خلیفة المسیح الثانی نے اس کمیشن میں کچھ امور پیش کرنے کے لئے حاصل کی تھیں، ان کے نوٹس اور تجاویز بھی کمیشن کو بھجوائی جائیں۔اس کے علاوہ الفضل کے کچھ شماروں اور ریویو آف الله سة ریلیجنز کے تمام شمارے بھیجوانے کا بھی لکھا گیا تھا۔اب موضوع تو یہ تھا کہ جو شخص آنحضرت صلی کام کو آخری