دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 117
117 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس پر صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے کہا: Decide نہیں مطلب یہ ہے کہ Decision۔They were planning like that اور ہوتا ہے planning اور ہوتی ہے۔اب قارئین یہ بات صاف صاف دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت کے قومی اسمبلی کے سپیکر صاحب کے نزدیک جس وقت رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں جماعتِ احمدیہ کے خلاف قرار داد منظور کی گئی اسی وقت اس چیز کا منصوبہ بن چکا تھا کہ پاکستان کے آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا ہے۔اب یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ ڈیڑھ ماہ میں ربوہ کے سٹیشن پر واقعہ بھی ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں ملک گیر فسادات بھی شروع ہو جائیں، جس کے نتیجہ میں یہ مطالبہ پورے زور و شور سے پیش کیا جائے کہ آئین میں ترمیم کر کے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔پڑھنے والے یہ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمیں لازمآ یہ ماننا پڑے گا کہ ان فسادات کو بھی ایک پلان کے تحت شروع کر ایا گیا تھا۔اگلے روز یکم جولائی کو اس سپیشل کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا اور یہ اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا۔اس اجلاس میں یہ منظور کیا گیا کہ اس کمیٹی کی تمام کارروائی بصیغہ راز رکھی جائے گی۔اور سوائے سرکاری اعلامیہ کے اس بارے میں کوئی خبر شائع نہیں کی جائے گی۔اور یہ بھی قرار پایا کہ یہ کمیٹی پانچ جولائی تک تجاویز کو وصول کرے گی۔اور اس کا اگلا اجلاس 3 / جولائی کو ہو گا جس میں مزید قواعد وضوابط طے کیے جائیں گے۔(33,32) یہ امر قابل توجہ ہے کہ آغاز سے ہی بڑے زور و شور سے اس بات کا اہتمام کیا جارہا تھا کہ تمام کارروائی کو خفیہ رکھا جائے اور کسی کو کان و کان خبر نہ ہو کہ کارروائی کے دوران کیا ہوا۔حالانکہ اس کمیٹی میں ملک کے دفاعی رازوں پر تو بات نہیں ہونی تھی کہ اس کو خفیہ رکھنے کی ضرورت ہو۔اس کے دوران تو جماعت کی طرف سے اور جماعت کے مذہبی مخالفین کی طرف سے مذہبی دلائل پیش ہونے تھے اور دلائل کا یہ تبادلہ کوئی نوے سال سے جاری تھا۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا اس لیے کو جارہا تھا تا کہ امن عامہ کی حالت خراب نہ ہو کیونکہ جہاں جہاں فسادات کی آگ بھڑ کائی جارہی تھی ،ایسے اکثر مقامات پر تو قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو خاموش تماشائی بن کر کھڑے تھے یا پھر مفسدین کی اعانت کر رہے تھے۔لیکن جب وزیر بھٹو صاحب نے اس مسئلہ پر 3 / جون کو ایوان میں تقریر کی تو اس بات کا اشارہ دیا کہ اس ضمن میں کارروائی In Camera کی جاسکتی ہے۔جب وزیر قانون نے تمام ایوان کو سپیشل کمیٹی میں تبدیل کر کے کارروائی شروع کرنے کی تجویز