دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 111
111 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری دور تکالیف کا دور تھا۔ان کی محبت کا تقاضا ہے کہ اگر دسیوں برس تک بھی ہمیں تکالیف اُٹھانی پڑیں تو ہم اس پیار کے نتیجہ میں دنیا پر ثابت کر دیں کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں اور محمد کے ساتھ پیار کرتے ہیں جو ع کی حالت بھی ان کی وفا کو کمزور نہیں کرتی۔وہ اسی طرح عشق میں مست رہتے ہیں جس طرح پیٹ بھر کر کھانے والا شخص مست رہتا ہے۔ان دنوں جماعت کے خلاف حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ بڑے زور شور سے کیا جا رہا تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔حضور نے اس نا معقول مطالبہ کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا بھر میں ایک شخص کا مذہب وہی سمجھا جاتا ہے جس کی طرف وہ خود اپنے آپ کو منسوب کرتا ہو۔حضور نے اس ضمن میں چین جیسے کمیونسٹ مذہب کی مثال دی۔اور اس ضمن میں ان کے قائد چیئر مین ماؤ کے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے۔اور فرمایا کہ کسی حکومت کا یہ حق نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ کسی شہری کا مذہب کیا ہے۔اور یو این او کے انسانی حقوق کے منشور کا حوالہ دیا جس پر پاکستان نے دستخط کیے ہوئے ہیں۔اور پھر اس مضمون پر پاکستان کے آئین کا تجزیہ کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا:۔آخر میں میں اپنے دستور کو لیتا ہوں ہمارا موجودہ دستور جو عوامی دستور ہے ، جو پاکستان کا دستور ہے۔وہ دستور جس پر ہمارے وزیر اعظم صاحب کو بڑا فخر ہے ، وہ دستور جو ان کے اعلان کے مطابق دنیا میں پاکستان کے بلند مقام کو قائم کرنے والا اور اس کی عزت اور احترام میں اضافہ کا موجب ہے، یہ دستور ہمیں کیا بتاتا ہے ؟ اس دستور کی بیسویں دفعہ یہ ہے (a)Every Citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion and (b) Every religious denomination and every sect thereof shall have the right to maintain and manage its religious institution۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کو ہمارا یہ دستور جو ہمارے لیے باعث فخر ہے یہ ضمانت دیتا ہے کہ جو اس کا مذہب ہو اور جس مذہب کا وہ خود اپنے لئے فیصلہ کرے وہ اس کا مذہب ہے۔(بھٹو صاحب یا مفتی محمود صاحب یا مودودی صاحب نہیں بلکہ ) جس مذہب کے متعلق وہ فیصلہ کرے وہی اس کا مذہب ہے اور وہ اس کا زبانی اعلان کر سکتا ہے۔یہ دستور اسے حق دیتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں کہ نہیں اور اگر وہ یہ اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں تو یہ آئین جس پر پیپلز پارٹی کو بھی فخر ہے ( اور ہمیں بھی فخر ہے اس لئے یہ دفعہ اس میں آگئی ہے) یہ دستور کہتا ہے کہ ہر شہری کا یہ حق