دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 106 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 106

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 106 صوبے میں امن و امان نظر آرہا تھا۔مولویوں کا گروہ پورے ملک میں لوگوں کو اکسا رہا تھا کہ وہ احمدیوں کا خون بہائیں اور وزیر اعلیٰ صاحب ان کے کردار کو سراہ رہے تھے۔اخبارات احمدیوں کی قتل و غارت اور ان پر ہونے والے مظالم کی خبروں کا مکمل بائیکاٹ کیسے بیٹھے تھے اور ان میں روزانہ جماعت کے خلاف جذبات بھڑ کانے والا مواد شائع ہوتا تھا اور اپیلیں شائع ہو رہی تھیں کہ احمدیوں کا مکمل بائیکاٹ کر دو، ان سے روز مرہ کا لین دین بھی نہ کرو لیکن پنجاب کے وزیر اعلی اخبارات کی تعریف کر رہے تھے کہ انہوں نے امن قائم کرنے کے لیے مثالی تعاون کیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیان کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ایک ہی نتیجہ نکل سکتا ہے اور وہ یہ کہ یہ فسادات حکومت کی آشیر باد سے کرائے جارہے تھے۔زیر اعظم کا انکشاف کہ ان حالات کے پیچھے بیرونی ہاتھ کار فرما ہے 13 / جون 1974ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ایک نشری تقریر کی اور اس میں کہا کہ جو شخص ختم نبوت پر ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان نہیں ہے۔اور کہا کہ بجٹ کا اجلاس ختم ہوتے ہی جولائی کے آغاز میں یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور 90 سالہ اس مسئلہ کو اکثریت کی خواہش اور عقیدہ کے مطابق حل کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں وہ اپنا کردار ادا کریں گے۔لیکن کسی کو امن عامہ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضبوط اعصاب کے سیاستدان ہیں اور وہ جو فیصلہ کریں گے انہیں اس پر فخر ہو گا۔بھٹو صاحب نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ الیکشن میں قادیانیوں نے انہیں ووٹ دیئے تھے لیکن انہیں قادیانیوں نے خریدا نہیں اور نہ وہ ان کے محتاج ہیں۔اور انہیں شیعہ سنی اور دوسرے فرقہ کے لوگوں نے بھی ووٹ دیئے تھے۔(22) لیکن ان سب باتوں کے ساتھ وزیر اعظم نے اس بات کا بھی بر ملا اظہار کیا کہ نہ صرف وہ بلکہ کئی دوسرے لوگ بھی یہ بات دیکھ رہے ہیں کہ ان حالات کے پیچھے بھی غیر ملکی ہاتھ کار فرما ہے اور یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ایک طرف بھارت نے ایٹمی دھما کہ کیا، دوسری طرف افغانستان کے صدر سر کاری مہمان کی حیثیت سے ماسکو پہنچ گئے۔اور پاکستان میں یہ مسئلہ اُٹھادیا گیا۔ربوہ کا واقعہ ان واقعات سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔اور کہا کہ یہ پاکستان کی سالمیت اور وحدت کے لیے خطرہ ہے۔(24,23)