دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 103 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 103

103 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 9 / جون کو لاہور میں کل پاکستان علماء و مشائی کو نسل منعقد ہوئی اور اس میں مطالبہ پیش کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی اسامیوں سے بر طرف کیا جائے اور ربوہ کی زمین ضبط کر لی جائے ورنہ 14 / جون سے ملک گیر ہڑتال کر دی جائے گی۔(19) اس کتاب کی تالیف کے دوران جب ہم نے پروفیسر غفور احمد صاحب سے انٹرویو کیا اور یہ دریافت کیا کہ کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ کسی گروہ کے متعلق یہ مطالبہ کیا جائے کہ اس سے تعلق رکھنے والے کلیدی آسامی پر فائز نہیں ہونے چاہئیں۔اس پر پہلے انہوں نے جواب دیا کہ آئین میں تو صرف صدر اور وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے پابندی ہے دوسرے تمام عہدوں پر قادیانیوں سمیت کوئی بھی مقرر ہو سکتا ہے۔جب ہم نے انہیں پھر یاد دلایا کہ یہ مطالبہ اس وقت کی اپوزیشن کی طرف سے کیا گیا تھا جس کے وہ خو در کن تھے تو اس پر انہوں نے فرمایا:۔” ہو گا۔میں نے آپ کو بتایا ناں کہ اس ساری چیز کو اس کے بیک گراؤنڈ میں دیکھیں۔قادیانیوں کو بھی اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں تو کیا بات ہے کہ ملک کی ایک بہت بڑی Majority کے جذبات ان کے خلاف ہیں۔کوئی نہ کوئی وجہ تو اس کی ہو گی۔پھر کہنے لگے کہ اس کی وجہ میں نے آپ کو یہ بتائی ہے کہ جب آپ اپنے اثر کو ناجائز استعمال کریں گے تو اس سے دوسرے Hurt ہوں گے اور پھر اس کی یہ مثال دی کہ سر ظفر اللہ کی لوگ Respect کرتے تھے کہ انہوں نے پاکستان کو Preach کیا لیکن انہوں نے میرٹ کی بجائے تعلقات پر بہت بھرتیاں کیں۔“ پروفیسر غفور احمد صاحب کا یہ بیان بہت دلچسپ ہے۔اوّل تو یہی بات محل نظر ہے کہ ملک کی اکثریت احمدیوں کے خلاف ہے۔لیکن اگر ان کا نظریہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر صورتِ حال یہ بنے گی کہ اگر کسی ملک کی اکثریت کسی اقلیت کے خلاف ہو جائے تو ہمیں لا زما یہ ماننا پڑے گا کہ قصور اس اقلیت کا ہی ہے اس لئے ان پر ہر ظلم روا ہے۔مثلا اگر انتہا پسند ہندوؤں کے زیر اثر ہندوستان کی اکثریت وہاں کے مسلمانوں کے خلاف ہو جائے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انتہا پسند ہندوستان میں بہت ووٹ بھی لیتے رہے اور ان کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا نہیں ہو تا تھا۔بلکہ جماعتِ اسلامی یا پاکستان کی دوسری مذہبی پارٹیوں کو تو کبھی اتنی کامیابی نہیں ملی جتنی ہندو انتہا پسند پارٹیوں کو ہندوستان میں ملتی رہی ہے۔تو اس صورت میں اگر یہ اکثریت میں ہوتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف قدم اُٹھائیں تو کیا پھر پروفیسر غفور صاحب یہ نتیجہ نکالیں گے کہ قصور ضرور