دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 99
99 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تفصیلات کے لئے دیکھئے شہدائے احمدیت شائع کردہ طاہر فاؤنڈیشن ربوہ) ا 2 / جون کو گوجرانوالہ میں مکرم بشیر احمد صاحب اور منیر احمد صاحب، غلام قادر صاحب اور چوہدری عنایت اللہ صاحب نے شہادت پائی۔4 / جون کو مکرم محمد الیاس عارف صاحب نے ٹیکسلا میں اور 8 / جون کو مکرم نقاب شاہ مہمند صاحب کو پشاور میں شہید کیا گیا۔پھر 19 جون کو ٹوپی میں غلام سرور صاحب اور ان کے بھتیجے اسرار احمد ، بھتیجے اسرار احمد خان صاحب کو شہید کر دیا گیا۔9 / جون کو ہی کو ئٹہ میں مکرم سید مولود احمد بخاری صاحب کو شہید کیا گیا۔11 جون کو مکرم محمد فخر الدین بھٹی صاحب کو ایبٹ آباد میں اور اسی تاریخ کو مکرم محمد زمان خان صاحب مکرم مبارک احمد خان صاحب کو بالا کوٹ میں شہید ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ایبٹ آباد میں مکرم محمد فخر الدین صاحب کو جس انداز میں شہید کیا گیاوہ اتنا بہیمانہ تھا کہ جس کے پڑھنے سے مشرکین مکہ کے کیے گئے مظالم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ان کو شہید کرنے کے بعد بھی ہجوم ان کی لاش پر گولیاں برساتا رہا۔نعش کے ناک، کان کاٹ کر مثلہ کیا گیا اور مخنجروں سے وار کر کے نعش کی بے حرمتی کی گئی۔بھٹی صاحب کے گھر کا سارا سامان نکال کر اسے نذر آتش کیا گیا اور اس الاؤ میں ان کی لاش کو پھینک دیا گیا۔شرپسند جلتی ہوئی آگ میں بھی نعش پر سنگ باری کرتے رہے۔ختم نبوت اور ناموس رسالت کے نام پر تحریک چلانے والوں کی اخلاقی حالت کا یہ عالم تھا۔ان فسادات کے آغاز میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کا مختصر ذکر کرنے کے بعد ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ان دنوں میں ملک کی قومی اسمبلی میں اس مسئلہ پر کیا بحث کی جارہی تھی۔3 جون 1974ء کو ایک بار پھر سٹیشن کے واقعہ پر قومی اسمبلی میں بحث شروع ہو گئی۔وقفہ سے کچھ دیر پہلے جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد صاحب نے کہا کہ باوجو د اس کے کہ اس واقعہ کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے لیکن یہ ایک قومی اہمیت کا مسئلہ ہے اس لئے اس پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہئے اور یہ بھی کہا کہ اس واقعہ کا تعلق مذہب سے ہے۔اس کے بعد جمعیت العلماء اسلام کے مفتی محمود صاحب کچھ نکات بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ربوہ میں جو واقعہ ہوا ہے وہ ایک جارحانہ کاروائی ہے جو مرزائی فرقہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف کی ہے اور یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا یہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔اور دعویٰ کیا کہ ہم ایوان کے سامنے ثابت کریں گے کہ یہ ایک منصوبہ تھا اور ایک پروگرام تھا اور اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ سٹیشن پر ہونے والا واقعہ جماعتی تعلیمات کے اور قانون کے خلاف تھا۔لیکن یہ واقعہ جس میں کسی شخص کی جان نہیں گئی، کسی مضروب کی بڑی نہیں ٹوٹی، جو ایک قصبہ تک محدود تھا، تو مفتی محمود صاحب کے نزدیک