دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 98 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 98

98 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری علماء نے بہت تعاون کیا ہے اور ان کا رویہ معقول تھا۔کوئی بھی صاحب شعور شخص اگر وزیر صاحب کے ارشاد کا سر سری تجزیہ بھی کرے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ باوجود اس کے کہ کتنے ہی احمدی گوجر انوالہ میں شہید کر دیئے گئے تھے لیکن وزیر صاحب فرمارہے تھے کہ احمدی غلطی کر رہے ہیں وہ اگر اپنی املاک کا دفاع نہ کریں اور جلوسوں کو لوٹ مار کی خواہش پوری کرنے دیں تو احمدیوں کی جان بچ جائے گی۔گویا ان کی حکومت میں اپنی املاک کا جائز دفاع کرنا بھی ایک نا قابل معافی جرم تھا۔اور حکومت کا کام صرف مظلوموں پر اعتراض کرنا تھا۔1974ء کے فسادات میں کتنے ہی احمد ی اس حالت میں شہید کر دیئے گئے کہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لیے ایک چھڑی بھی نہیں تھی۔ان نہایت قابل وزیر صاحب نے اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا کہ ان کی شہادت کس وجہ سے ہوئی۔پندرہ جون تک پاکستان کے 120 شہروں اور قصبوں میں فسادات کا آغاز ہو چکا تھا۔ان میں اکثر مقامات صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتے تھے لیکن پاکستان کے باقی صوبوں اور شمالی علاقہ جات کے کچھ مقامات میں فسادات کی آگ بھڑ کنی شروع ہو چکی تھی۔احمدیوں کو دھمکیاں دے کر ارتداد پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ان کو مارا پیٹا جارہا تھا۔ان کے گھروں پر حملے ہو رہے تھے ، پتھر او کیا جارہا تھا، سامان لوٹا جارہا تھا اور ان سترہ دنوں میں کئی مقامات پر احمدیوں کے 270 مکانات کو نذر آتش کیا گیا یا انہیں لوٹا گیا۔احمدیوں کی دوکانیں اور فیکٹریاں بھی خاص طور پر شورش کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔پندرہ جون تک احمدیوں کی 340 دوکانوں کو لوٹ مار یا آتشزدگی کا نشانہ بنایا گیا اور چھ فیکٹریوں کو تاخت و تاراج کیا گیا۔دیگر کاروباری مراکز کا نقصان اس کے علاوہ تھا۔فسادات کے ابتدائی سترہ دنوں میں احمدیوں کی 25 مساجد کو شہید کیا گیا اور تین پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آشیر باد سے قبضہ کر لیا گیا۔20 مقامات پر جماعت کی قائم کردہ چھوٹی چھوٹی لائبریریوں کو آگ لگادی گئی اور قرآن کریم کے کئی نسخے شہید کر دیئے گئے۔کئی جگہوں پر پولیس نے فسادات پر قابو پانے کی بجائے ان احمدیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جو اپنے مکانات کی حفاظت کر رہے تھے۔پندرہ جون تک ربوہ کے اسیر ان سمیت 108 احمدیوں کو گر فتار کیا جا چکا تھا۔بہت سے شہروں میں مولوی لوگوں کو اکسا رہے تھے کہ وہ احمدیوں کا بائیکاٹ کریں اور ان کو ضروریات زندگی بھی نہ فروخت کریں۔ربوہ کے ارد گرد کے دیہات کو بھی بھٹڑ کا یا جار ہا تھا کہ وہ ربوہ تک ضروریات زندگی نہ پہنچائیں۔اب تک 21 احمدی جام شہادت نوش کر چکے تھے اور 9 کے متعلق یہ علم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا انہیں بھی شہید کیا جا چکا ہے۔دس شہداء کا تعلق گوجر انوالہ سے تھا اور ساہیوال، ٹوپی اور بالا کوٹ ، کوئٹہ ، حافظ آباد، ٹیکسلا، پشاور اور ایبٹ آباد کے احمدی بھی شہادت کے مقام پر سر فراز ہو چکے تھے۔