غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 108
108 سختی سے رد فرما دی۔قیام احکام الہی کی غیرت اور غضب سے آپ کے چہرے کا رنگ سرخ ہو گیا اور حضرت اسامہ سے فرمایا۔کیا تم اللہ کی حدود اور احکام کے برخلاف میرے پاس سفارش کرنا چاہتے ہو ؟ حضرت اسامہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لئے دعائے بخشش کی درخواست کی۔پھر اسی شام رسول اللہ میں ایل ایل نے قیام عدل کے بارہ میں ایک تقریر فرمائی۔اس میں ارشاد فرمایا ”تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ ان میں سے جب کوئی معزز کوئی جرم مثلاً چوری کرتا تھا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میری بیٹی فاطمہ بنت محمد سے بھی یہ جرم سرزد ہوتا اور وہ چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔چنانچہ نبی کریم میں کے اس فیصلہ کے مطابق اس عورت پر حد قائم کی گئی۔" (بخاری کتاب المغازی) اس واقعہ سے نبی کریم میں ان کی ریلی کے اخلاق فاضلہ کے علاوہ خدا تعالیٰ سے آپ کے تعلق کا پتہ چلتا ہے کہ احکام ابھی کی بجا آوری کے لئے آپ دنیا کے کسی تعلق کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ خدا کی ذات کو مقدم رکھتے تھے۔نو مسلموں سے احسان:۔فتح مکہ کے سفر سے واپسی پر بھی نبی کریم کے اخلاق فاضلہ کے شاندار نمونے دیکھنے میں آئے۔نو مسلموں کی تالیف قلبی کا یہ شاندار نظارہ بھی دیکھا گیا کہ مشرک سردار مکہ اسید کے ۲۱ سالہ جوان سال بیٹے عتاب کو مسلمان نے پر مکہ کا والی اور حاکم مقرر فرمایا۔یہ وہی عتاب بن اسید تھے جنہوں نے