غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 93
93 محمد تھے۔اے محمد ! اے ہمارے آقا! بے شک آپ کا نام بھی محمد تھا اور کام بھی محمد ہی نام اور محمد ہی کام علیک الصلوه علیک السلام عضو عام اور رحمت تام کا روشن مینار : قاضین عالم کی فتوحات کی یادیں ان کی ہلاکت خیزیوں اور کھوپڑیوں سے تعمیر کئے جانیوالے میناروں سے وابستہ تی ہیں مگر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح تو آپ کے عفو عام اور رحمت تام کا وہ روشن مینار ہے جس کی کل عالم میں کوئی نظیر نہیں۔سوائے چند مجرموں کے جو اپنے جرائم کی بنا پر واجب القتل تھے۔نبی کریم میں اللہ کے دربار سے عام معافی کا اعلان دراصل آپ کی وہ اخلاقی فتح تھی جس نے آپ کے اہل وطن کے دل جیت لئے۔ان دس واجب القتل مجرموں میں سے بھی صرف چار اپنے جرائم پر اصرار کرنے اور معافی نہ مانگنے کی وجہ سے مارے گئے ورنہ اس دربار سے تو عفو کا کوئی بھی سوالی خالی ہاتھ لوٹا نہ معافی سے محروم ہوا۔پہلام مجرم : ان مجرموں سے ایک بد بخت عبد اللہ بن خطل تھا۔جس کا اصل نام عبد العزی تھا۔مسلمان ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبد اللہ رکھا اور اسے زکوۃ وصول کرنے پر مامور فرمایا اور ایک انصاری کو بطور خدمت گار ساتھ روانہ کیا۔ایک منزل پر قیام کے دوران محض بروقت کھانا تیار نہ کرنے پر اس انصاری نوجوان کو قتل کر ڈالا۔اس قتل ناحق کے باعث وہ سزائے موت کا مستحق تو قرار پاہی چکا تھا لیکن مستزاد یہ کہ اس قتل کے بعد مرتد ہو کر مشرکین مکہ سے جاملا اور اسلام اس پر