غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 94
94 اور بانی اسلام کے خلاف ایک محاذ کھول لیا یہ خود شاعر تھا۔نبی کریم میٹی کے خلاف گندے اور فخش اشعار کہتا۔مجالس میں ترنم سے پڑھوا تا تھا۔فتح مکہ کے موقع پر بھی ابن خطل معافی کا خواستگار ہونے کے بجائے زرہ بند اور مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور قسمیں کھا کھا کر یہ اعلان کرتا پھرا کہ محمد کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔پھر جب حضور ملی یا مکہ میں داخل ہو گئے تو بھی بجائے آپ کے دربار عفو میں حاضر ہونے کے خانہ کعبہ کے پردوں سے جا کر لپٹ گیا تا اس حیلہ سے جان بچالے۔چنانچہ حسب فیصلہ یہ قتل ہو کر کیفر کردار کو پہنچا۔(سیرۃ الحلبیہ، جلد ۳ صفحه ۱۰۵و بخاری کتاب المغازی) دوسری مجرم:۔ابن خطل کی دو مغنیہ (گانے والی عورتیں تھیں جو اعلانیہ اس کی کمی ہوئی ہجو گایا کرتیں اور اشاعت فاحشہ کی مرتکب ہوتیں۔اس لئے اس کے ساتھ اس کی دونوں مغنیات بھی سزائے موت کی سزاوار قرار پائیں۔ان دونوں میں سے ایک تو قتل ہو گئی۔دوسری سارہ نامی کہیں بھاگ گئی اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لئے معافی و امان طلب کی گئی تو آپ نے اسے بھی معاف فرما دیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۱۰۷) " تیسرا شخص حویرث بن نقیذ بن وھب تھا جو نبی کریم کا تیسرا مجرم :- جانی دشمن تھا اور سکے میں آپ کو سخت ایذا ئیں دیتا اور آپ کے خلاف سخت بکو اس کرتا اور ہجو کہتا تھا مگر اس کا اصل جرم جسکی بناء پر یہ واجب القتل ٹھہرا نبی کریم میل ل ل ل لیلی کی صاحبزادی پر قاتلانہ حملہ تھا۔چنانچہ رسول اللہ علی وسلم کی ہجرت مدینہ کے بعد جب آپ کے چچا حضرت عباس"