غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 84
84 پیش کر رہا تھا۔(بخاری کتاب المغازی) اب دنیا منتظر تھی کہ عثمان بن طلحہ سے بطور انتقام چابیاں واپس لے لی جائیں گی اور کسی اور کے سپرد ہونگی۔حضرت علی رسول اللہ میم کی خدمت میں عرض بھی کر چکے تھے کہ آج سے کعبہ کی دربانی کی خدمت بنو ہاشم کو عطا کی جائے ادھر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں نماز پڑھ کر باہر تشریف لائے تو عثمان بن طلحہ سے ایک عجیب تاریخ ساز انتقام لیا۔آپ نے چابیاں اس کے حوالے کر دیں اور فرمایا آج کا دن احسان اور وفا کا دن ہے اور اے عثمان میں یہ چابیاں ہمیشہ کیلئے تمہیں اور تمہارے خاندان کے حوالے کرتا ہوں اور کوئی بھی تم سے یہ چابیاں واپس نہیں لے گا سوائے ظالم کے۔یہ احسان دیکھ کر مشرک عثمان بن طلحہ کا سر جھک گیا اور اس کا دل محمد مصطفیٰ کے قدموں میں تھا اس نے اسی وقت اعلان کیا میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبو نہیں اور بے شک محمد اس کا رسول ہے۔(سیرۃ الحلبیہ، مجمع الزوائد جلد 4 صفحه ۱۷۷ ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۹۲ تا ۹۴) یہ تھا انتقام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور کتنا حسین ہے یہ انتقام!! کوئی ہے جو اس کی نظیر پیش کرے؟ تاریخی خطبہ : حضور ملی یا طواف سے فارغ ہو کر جب باب کعبہ کے پاس تشریف لائے تو آپ " کے تمام جانی دشمن آپ کے سامنے تھے۔آپ نے اس جگہ وہ عظیم الشان تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اپنے خونی دشمنوں کے لئے معافی کا اعلان تھا۔مساوات انسانی کا اعلان تھا کسی غرور کی بجائے فخر و مباہات کالعدم کرنیکا اعلان تھا۔الغرض یہ معرکہ آراء خطبہ بھی دراصل آپ کے خلق عظیم کا زبردست شاہکار ہے۔آپ نے فرمایا :۔