غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 55
55 اسراف کرنے والوں کیلئے سید الانبیاء محمد مصطفی میں ریلی کا یہ اسوہ سادگی اور بے تکلفی کا کتنا حسین سبق ہے۔خلق وفا : اب مدینہ واپسی ہوتی ہے۔مدینہ کے قریب پہنچ کر رسول اللہ علیم کی نگاہیں جب احد پہاڑ پر پڑیں تو بے ساختہ کہہ اٹھے کہ جبل احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمیں اس سے محبت ہے۔میں نے سوچا کہ اس وقت میرے آقا کو احد کے وہ شہید یاد آئے ہوں گے جنہوں نے اسلام اور محمد رسول اللہ ایم کیو ایم کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کی تھیں۔اے دنیا والو! اس شاہ مدنی کی وفا تو دیکھو۔وہ فتح کی خوشی میں احد میں اپنے شہید ہونے والے غلاموں کی قربانیوں کو نہیں بھولا۔اور اس کی وفائیں محبت میں ڈھل کر کہتی ہے کہ اے احد کے شہیدو تم پر سلام ہو۔خدا اور اس کے رسول میں یا ای میل کی خاطر بہائے گئے تمہارے خون رنگ لائے ہیں اور آج تمہارا آقا ایک عظیم الشان فتح سے واپس لوٹتے ہوئے تمہیں اپنی محبت کا تحفہ پیش کرتا ہے۔قارئین کرام! کیا آپ جانتے ہیں کہ خیبر کے حصن حصین کو توڑنے والا عظیم فاتح جب اپنے شہر مدینہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کی زبان پر کیا الفاظ انہوں نے کوئی فخریہ نعرے نہیں لگائے۔فتح کا کوئی جشن نہیں منایا بلکہ عاجزی اور خاکساری کا ایسا نمونہ دکھایا کہ آسمان کے فرشتے بھی آفرین کہتے ہوں گے۔مدینہ پر نظر پڑتے ہی یہ دعا آپ کے ورد زبان بن گئی۔ائِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ (بخاری کتاب المغازی) کہ ہم اپنے رب کے حضور رجوع کرتے ہوئے واپس لوٹتے ہیں۔ہم