غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 54
54 سے زیادہ خوبصورت اخلاق والا انسان کبھی نہیں دیکھا۔(سيرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ۵۲-۵۱) خیبر سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت صفیہ کو خود اپنا گھٹنا بچھا کر اونٹ پر سوار کراتے تھے۔(بخاری کتاب المغازی) بعد میں ایک دفعہ کسی زوجہ مطہرہ نے حضرت صفیہ کو یہودی ہونے کا طعنہ دیا تو وہ رونے لگیں۔آنحضرت امین و ام ایم کو پتہ چلا تو فرمایا۔اے صفیہ ! تم نے یہ کیوں نہ کہا کہ میرا باپ ہارون" "میرا چچا موسیٰ اور میرے شوہر محمد ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت میں صفیہ آپ سے کہنے لگیں یا رسول اللہ ! خدا کی قسم میں چاہتی ہوں کہ آپ کی بیماری مجھے مل جائے اور آپ اچھے ہو جائیں۔اس پر بعض ازواج مطہرات نے باہم آنکھ کا اشارہ کیا جسے نبی کریم نے دیکھ لیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو صفیہ کے قلب صافی سے واقف تھے فرمانے لگے۔بخدا! یہ اپنی بات میں کچی ہے۔(زرقانی جز ۲ صفحه ۲۲۳) سوچنے کا مقام ہے کہ صفیہ کا باپ تو رسول اللہ میم کے خون کا پیاسا تھا اور بیٹی آپ پر جان چھڑکتی ہے۔سادگی کی شان خیبر سے واپسی پر صہبا مقام پر آنحضور نے - حضرت صفیہ کا ولیمہ کیا۔اس فاتح خیبر اور شاہ دو جہاں کا ولیمہ کیا تھا؟ دنیا کی شان و شوکتیں اور دعوتوں کی رونقیں اس ایک سادگی پر قربان جو سادگی ہمیں فاتح خیبر کے ولیمہ میں نظر آتی ہے۔شاہ مدینہ میدان صہبا میں دسترخوان بچھواتے ہیں اور حضرت بلال ان پر کھجوریں اور پنیر سجا دیتے ہیں۔(بخاری کتاب المغازی) پس یہی ہمارے آقا کا ولیمہ تھا۔آج دعوتوں اور ولیموں میں تکلف اور