غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 98
98 الله شد اسلام ابو جہل کا بیٹا اور مشرکین مکہ کا سردار عکرمہ بھی تھا جس نے ساری عمر اسلام کی مخالفت اور عداوت میں گزار دی۔مسلمانوں اور بانی اسلام کو وطن سے بے وطن کیا پھر مدینے میں بھی چین سے بیٹھنے نہ دیا ان پر جنگیں مسلط کیں اور ان کے خلاف لشکر کھینچ کر لے گیا۔حدیبیہ مقام پر مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روکا اور پھر اس موقع پر جو معاہدہ کیا اسے توڑنے اور پامال کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فتح مکہ کے موقع پر امن کے اعلان عام کے مطابق ہتھیار نہ ڈالے بلکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خالد بن ولید کے دستے پر حملہ کر کے حرم میں خونریزی کا موجب بنا اپنے ان شنیع جرائم کی معافی کی کوئی صورت نہ دیکھ کر فتح مکہ کے بعد عکرمہ یمن کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔اس کی بیوی ام حکیم مسلمان ہو گئی اور رسول کریم ملی لی کے دربار عفو سے اپنے خاوند کی معافی اور امان کی طالب ہوئی۔حضور میں نے اس جانی دشمن کے لئے بھی امان نامہ عطا فرما دیا۔اس کی بیوی تلاش میں اس کے پیچھے گئی، اور اسے جالیا اور کہا میں اس عظیم انسان کے پاس سے آئی ہوں جو بہت ہی صلہ رحمی کرنیوالا اور حسن سلوک کرنیوالا ہے تم اپنے آپ کو ہلاک مت کرو میں تمہارے لئے پروانہ امان لیکر آئی ہوں۔عکرمہ کو اپنے جرائم کے خیال سے معافی کا یقین تو نہ آتا تھا مگر اپنی بیوی پر اعتماد کرتے ہوئے واپس لوٹ آیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ کے دربار میں حاضر ہوا تو آپ نے کمال شفقت و محبت کا سلوک کیا اپنے اس جانی دشمن کو خوش آمدید کہا اور دشمن قوم کے اس سردار کے اعزاز کیلئے کھڑے ہو گئے۔(موطا کتاب النکاح) اور اپنی چادر اس کی طرف پھینک دی جو امان عطا کرنے کے علاوہ احسان کا اظہار بھی تھا پھر آپ فرط مسرت سے ان کی طرف آگے بڑھے۔عکرمہ نے عرض کیا میری بیوی کہتی ہے آپ نے مجھے معاف فرما دیا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں یہ۔