غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 95 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 95

95 نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں حضرت فاطمہ الہا اور حضرت ام كلثوم ان کو مکہ سے مدینہ بھیجوانے کیلئے اونٹ پر سوار کروا کے روانہ کیا تو اس بدبخت نے چھپ کر قاتلانہ حملہ کر کے ان کو اونٹ سے گرا دیا۔حضرت علی نے اسے فتح مکہ کے موقع پر حسب فیصلہ اس کے جرائم کی پاداش میں قتل کیا۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه (۱۰۵) چوتھا مجرم : چوتھا شخص مقیس بن منابہ تھا اسے اس لئے واجب القتل قرار دیا گیا تھا کہ اس نے مدینہ میں ایک انصاری کو قتل کیا تھا جس کے بعد وہ مرتد ہو کر قریش سے جا ملا۔(ابن ہشام جز ۴ صفحہ ۹۲) دراصل مقیس نے مسلمان ہوا اور اپنے بھائی ہشام بن ضبابہ کی دیت کا تقاضا کیا جسے ایک انصاری نے غزوہ قرد میں دشمن کا آدمی سمجھ کر غلطی سے قتل کر دیا تھا۔حضور ملی یوی کی دیوی نے اس کے بھائی کی دیت اسے ادا فرمائی۔دیت وصول کر لینے کے بعد اس نے پھر اس انصاری کو قتل کیا اور مرتد ہو کر دشمن اسلام اہل مکہ سے جا ملا۔اسے بھی انصاری کے قتل کے قصاص میں فتح مکہ کے موقع پر قتل کیا گیا۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۱۰۵-۱۰۶) ان چار مجرموں کے علاوہ باقی تمام وہ مجرم جو واجب القتل قرار دیئے گئے جب معافی کے طالب ہوئے اور امان چاہی تو رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا۔ایک مرتد کی معافی: عبد الله بن سعد بن ابی سرح بھی انسی لوگوں میں سے تھا جو حضور میل کا کاتب وجی تھا۔اس نے کلام الہی میں تحریف اور خیانت کے جرم کا ارتکاب کیا جب اس کی یہ چوری پکڑی گئی تو بغاوت اور ارتداد اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں