غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 9 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 9

کرلے گئے۔بنو نضیر کے سرداروں میں سے حیی بن اخطب کے ساتھ کنانہ بن ربیع اور سلام بن ابی الحقیق اپنے خاندان سمیت خیبر کے قلعہ بند شہر میں جا کر آباد ہو گئے اور ایک قلعہ کی سرداری حاصل کرلی۔مدینہ سے یہود کے اخراج کے بارہ میں مسٹر منٹگمری واٹ جیسا معاند اسلام بھی تسلیم کرتا ہے کہ :۔"یہود کو ان کے مخالفانہ طرز عمل اور محمد ( م ) کے خلاف سازشیں کرنے کی وجہ سے مدینہ سے نکالا گیا۔" (محمد ایٹہ مدینہ صفی ۲۲) قبیلہ بنو نضیر اپنی اس جلاوطنی کی وجہ سے اسلام کا پہلے سے کہیں بڑھ کر دشمن ہو چکا تھا اسی انتقام کی آگ میں جلتا ہوا اس قبیلہ کا سردار حیی بن اخطب مسلسل قبائل عرب اور اہل مکہ کو آنحضور میں لیا اور اسلام کے خلاف اکساتا رہتا تھا۔حیی بن اخطب کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجہ میں ہی جنگ احزاب میں سارا عرب متحد ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تھا۔(اور کمزور نہتے مسلمانوں نے شہر کے گرد خندق کھود کر اپنا دفاع کیا تھا، صرف یہی نہیں۔بلکہ حیی بن اخطب نے مدینہ کے نواح میں بسنے والے آخری یہودی قبیلہ بنو قریظہ کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسا کر غداری پر آمادہ کر لیا۔جس ، مسلمانان مدینہ کو اپنی جانوں کی حفاظت کا بہت بڑا خطرہ پیدا ہو گیا کیونکہ انہوں نے بنو قریظہ سے معاہدہ کی وجہ سے ان کی سمت کو محفوظ خیال کرتے ہوئے اس طرف خندق نہیں کھودی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان لشکروں کو تو پسیا کرنے کے سامان کر دیئے لیکن اس طرح اس موقع پر یہود خیبر کی کھلم کھلا عداوت اور بنو قریظہ کی غداری اور بغاوت کھل کر سامنے آگئی۔(ابن ہشام جلد ۳ صفحه (۲۶) احزاب کے بعد آنحضرت ملی اور بنو قریظہ کو ان کی غداری اور