غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 70 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 70

70 نہیں کر سکتی۔صحابہ کرام درختوں سے پیلوا تار کر کھانے لگے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو پیار سے فرماتے دیکھو کالی کالی پیلو تو ڑ نا وہ زیادہ میٹھی ہوتی ہیں۔" صحابہ نے عرض کی کہ حضور میں آپ کو کیسے پتہ ہے کیا آپ نے بھی کبھی جنگل میں بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا ”ہاں میں نے بکریاں بھی چرائی ہیں اور نبی بھی تو چرواہے ہی ہوتے ہیں۔" حضرت عبد اللہ بن مسعود اپنے چھریرے بدن اور پیلی ٹانگوں کی وجہ سے پھرتی سے درختوں پر چڑھ جاتے اور پیلوا تار لاتے۔بعض صحابہ ان کی دبلی پتلی ٹانگوں کا مذاق اڑانے لگے جب آپ نے دیکھا کہ مذاق استہزاء کا رنگ اختیار کرنے لگا ہے۔تو اپنے اس صحابی کے لئے آپ کو غیرت آئی فرمایا اس کی سوکھی ہوئی ٹانگوں کو حقارت سے مت دیکھو اللہ کے نزدیک یہ بہت وزنی ہیں۔عبداللہ بن مسعود پکی ہوئی کالی کالی پیلو اپنے آقا کی خدمت میں پیش کرتے۔(طبقات ابن سعد جز ۳ صفحه ۱۵۵) اب دس ہزار سپاہ پر مشتمل لشکر اسلام حیرت انگیز تیزی سے منزلیں مارتا ہوا عین قریش کے سر پر پہنچ چکا تھا۔اور ان کو خبر تک نہ تھی۔اس خاموش مخفی اور اچانک پیش قدمی کی جنگی حکمت علمی میں بھی رحمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلو غالب تھا کہ کس طرح انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچ جائیں۔حرم پاک کشت و خون سے محفوظ رہے اور قریش کو مزاحمت کیلئے تیاری جنگ کا کوئی موقع ملنے نہ پائے۔اب جب کہ مکہ محض ایک منزل پر تھا۔وقت آگیا کہ کے پر لشکر اسلام کے اچانک چڑھ آنے سے قریش کو حیران و پریشان اور صبوت و ششدر (Surprize) کر دیا جائے۔سر ولیم میور بھی تسلیم کرتا ہے۔کہ فتح مکہ کا سفراتنی برق رفتاری سے طے کیا گیا و"