غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 53 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 53

۔53 ایسا کرنے پر معذرت چاہی۔حضرت صفیہ جن کے دل میں اپنے خواب کی وجہ سے پہلے ہی رسول اللہ علیہ کی عظمت بیٹھ چکی تھی۔اب آپ کی رحمت کا یہ پہلا نمونہ دیکھ کر ان کی محبت میں یقیناً اضافہ ہوا ہو گا۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۴۳) پھر سوچنا چاہئے کہ اس وقت شہزادی صفیہ کے دل پر کیا گزری ہوگی جب ایک عام صحابی نے انہیں اپنی لونڈی بنا لیا۔مگر محمد مصطفی میں دی ہم نے صفیہ پر ایک اور احسان کرتے ہوئے اور ان کے جذبات اور شاہانہ مرتبہ کا خیال کرتے ہوئے انہیں اپنے عقد میں لے لیا۔صرف یہی نہیں بلکہ حضرت صفیہ کا بیان ہے کہ شادی کے بعد آنحضرت میں تم نے مجھ سے اس قدر نرمی اور محبت کا سلوک فرمایا کہ میرا دل صاف ہو گیا۔اور سب کدورتیں مٹ گئیں۔آپ " مجھے جنگ کی تفاصیل بیان کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ تمہارا باپ جنگ احزاب میں سارے عرب کو میرے خلاف بھڑکا کر کھینچ لایا تھا اور اس نے یہ یہ ظلم کئے۔تمہاری قوم نے یہ یہ زیادتیاں کیں جس کا انجام بالا خر انکو دیکھنا پڑا۔حضرت صفیہ فرماتی ہیں۔اس وقت تک حضور مجھ سے محبت بھری باتیں فرماتے رہے کہ میری سب کدورتیں دھل گئیں اور سینہ صاف ہو گیا۔مجھے لگا جیسے دنیا میں میرے سب سے زیادہ محبوب وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔شاید یہ وجہ بھی ہوگی کہ رسول اللہ میں نے آپ کا نام صفیہ رکھا جس کے معنی صفائی دل کے بھی ہو سکتے ہیں۔حضرت صفیہ فرماتی ہیں۔مَا رَأَيْتُ قَطُّ اَحْسَنَ خُلُقًا مِنْ رَّسُولِ اللهِ کہ میں نے رسول اللہ