غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 47
47 بھی تھیں جو بنو نضیر کے سردار معاند اسلام حسی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔جن کو بعد میں کمال شفقت اور احسان فرماتے ہوئے آنحضرت میں ہم نے اپنے عقد میں لے لیا تو صفیہ کے نام سے مشہور ہو ئیں۔(سیرۃ الحلبیہ، جلد سوم صفحہ ۵۰) ہر چند کہ یہودی سردار کنانہ کا جرم قتل کے قصاص میں مارا جانا اور اپنی مبینہ غداری اور معاہدہ شکنی کی قرار واقعی سزا پانا عین انصاف تھا اس کے باوجود عیسائی مستشرقین کا یہ اعتراض کہ کنانہ کی بیوی سے شادی کرنے کیلئے اور اس کا مال حاصل کرنے کیلئے آنحضرت میں میں نے اسے قتل کروا دیا سخت بے ہودہ اور بے حقیقت نظر آتا ہے اور مستشرقین کے اسلام کے ساتھ بغض و عناد اور ان کے شدید علمی ومذہبی تعصب کو ظاہر کرتا ہے جو خاص انہیں کا ہے۔تقسیم غنائم اور قیام عدل و احسان : فتح غیر کے بعد جب مال غنیمت کی تقسیم کا وقت آیا تو دنیا نے اس حق پرست اور منصف و محسن انسان سے ادائیگی حقوق کا شاندار نظارہ دیکھا۔عیسائی مؤرخین خیبر کے حملہ کو مال غنیمت کے حصول کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔کاش وہ دیکھیں کہ میرے آقا کے سامنے مال کی کوئی قیمت اور حقیقت نہیں۔وہ تو بے دریغ مال غنیمت تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔خیبر میں شامل ہونے والے پیدل مجاہدوں کو ایک حصہ اور گھوڑ سواروں کو تین حصے دیئے جاتے ہیں۔ان عورتوں کو بھی حصہ دیا جاتا ہے جو جنگ میں شریک تو نہ تھیں لیکن زخمیوں کی دیکھ بھال پر مامور تھیں۔ان مہاجرین حبشہ کا بھی خیال رکھا جاتا ہے جو عرصہ دس سال کی غریب الوطنی کے بعد حبشہ سے واپس لوٹے تھے۔یمن کے ان نو مسلموں کو بھی مال عطا کیا جاتا ہے جو حضرت ابو ہریرہ کے ساتھ آئے تھے۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خیبر)