غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 43
43 یہ ہے فتح خیبر کا عظیم الشان آغاز جو شیر خدا حضرت علیؓ کے حصہ میں آیا اور جس سے آپ کی فراست و بصیرت ، عزم و ہمت اور جوانمردی ظاہر وباہر ہے جس کے سبق انہوں نے محمد مصطفی ملی لی ایم کے خلق عظیم سے سیکھے تھے۔خیبر کے قلعوں میں سے پہلے قلعہ کی فتح سے گویا فتح خیبر کا دروازہ کھل گیا۔مسلمانوں کو مال غنیمت اور سامان رسد ہاتھ آیا اور یوں باقی قلعے دوسرے مسلمان جرنیلوں کے ہاتھوں فتح ہوتے چلے گئے۔واضح ہو کہ فتح خیبر کا یہی وہ معقول اور قابل فہم حل ہے جسے تاریخ و سیرت کے بنیادی ماخذ کی تائید حاصل ہے۔چنانچہ ابن ہشام تاریخ الخمیس سيرة الحلبیہ اور اہل تشیع کی مستند کتاب بحار الانوار میں لکھا ہے تناول عَلِيُّ الْبَاب وَ تَتَرَسَ بِهِ يَزِ اجْتَذَبَ أَحَدَ الْأَبْوَابِ کے الفاظ بھی ہیں۔یعنی حضرت علی نے آہنی گیٹ کا ایک دروازہ پکڑ لیا اور بطور ڈھال خود اس کی آڑ لی اور اسے پوری قوت سے اپنی طرف کھینچے رکھا اور یوں دشمن کو وہ دروازہ بند نہ کرنے دیا۔(1) ابن ہشام جلد ۴ صفحه 1 تاریخ المیس جلد ۲ صفحه ۵ ill- سیرت حلبیہ جلد ۳ صفحه ۴۳) i بعد میں یار لوگوں نے اس قصہ کو حاشیہ آرائی سے یوں بیان کیا کہ حضرت علی نے اکھیڑ کر وہ بھاری بھر کم آہنی دروازہ ہاتھ میں اٹھا لیا۔یہ کتنی بے معنی اور بے مقصد روایت ہے جس کا فتح سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا۔ایسی لغو روایت حضرت علی کی طرف منسوب کرنا بھی آپ کی شان کے خلاف اور بے ادبی کی بات ہے۔iii شان خلق عظیم : فاتحین عالم کے حالات پڑھ کر دیکھئے کہیں آپ کو آبادیاں ویران اور قلعے مسمار ہوتے نظر آئیں گے تو کہیں انسانی کھوپڑیوں کے مینار دکھائی دیں گے۔مگر فتح خیبر میں تو مجھے