غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 42 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 42

42 انَا الَّذِي سَمَّتْنِي حَيْدَرَة ر غَامُ أَجَامٍ وَ لَيْنَّ قَسْوَرَهُ (تاریخ الخميس جلد ۲ صفحه ۵۰) میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام شیر رکھا ہے۔میں میدان میں سخت حملہ اور شیر ببر کی طرح ہوں۔" حضرت علی نے مرحب سے مقابلہ کر کے اسے مار گرایا۔مرحب کے بعد اس کا بھائی یا سر مقابلہ کیلئے نکلا۔جو زبردست شہسوار تھا اس نے بھی بهادرانہ نعرہ بلند کیا کہ سرزمین خیبر جانتی ہے کہ میں یا سر ہوں اسلحہ سے لیس ایک بہادر جواں مرد) رسول اللہ ملی یا یا اللہ نے حضرت زہیر کو اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ارشاد فرمایا اور حضرت زبیر نے آگے بڑھ کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔یہود کے حوصلے تو پہلے ہی پست ہو چکے تھے اپنے سردار کے قتل سے وہ بالکل ہی ہمت ہار بیٹھے۔قریب تھا کہ وہ قلعہ میں داخل ہو کر دروازے بند کر لیتے اور نتیجہ مسلمانوں کو ہر روز کی طرح ہزیمت اٹھانا پڑتی۔مگر آج تو فتح کا دن تھا۔اللہ تعالٰی نے حضرت علی کو ایسی غیر معمولی فراست، ہمت اور جرات بخشی کہ انہوں نے عزم کر لیا کہ وہ آج پسپا ہوتے ہوئے یہودی دشمنوں کو قلعہ کا دروازہ بند نہیں کرنے دیں گے۔چنانچہ وہ تیزی سے آگے بڑھے۔بائیں ہاتھ سے ڈھال پھینک دی اور دروازے کا ایک پٹ پوری قوت سے پکڑ لیا۔یهودی دروازہ بند کرنے کے لئے آپ پر حملہ کرتے تھے اور آپ دروازہ کے پیچھے ہو کر اور اسے ڈھال بنا کر ان کا مقابلہ کرتے رہے۔اتنے میں مسلمانوں کا ایک دستہ آپ کی مدد کیلئے پہنچ گیا اور مسلمان لڑتے ہوئے قلعہ کے اندر داخل ہو گئے۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۴۳ و سیرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ۴۶)