غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 41
41 اقتداری معجزات میں سے یہ ایک عظیم معجزہ تھا جس کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی بلکہ ایک چھپی ہوئی طاقت اللی محفوظ تھی۔حضرت علی سیاہ رنگ کا علم ہاتھ میں لے کر اسلامی فوج کی قیادت کرتے ہوئے نکلے تو رسول اللہ میں کیا اور ہم نے فرمایا کہ پہلے یہود کو اسلام کی دعوت دیتا اور اگر وہ اسلام قبول کرنا چاہیں تو ان سے جنگ نہ کرنا۔اگر خدا تعالیٰ تیرے ذریعے سے ایک جان کو بھی ہدایت دے تو یہ تیرے لئے دنیوی مال و مثال حتی کہ سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خیبر جلد (۳) آپ نے اپنے دست مبارک سے حضرت علی کی کمر میں تلوار حمائل کی اور الہی تائید کی خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا۔اے علی ! یہود کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایلیا نامی ایک شخص ان کو تباہ کرے گا۔اس لئے تم جا کر پہلے انہیں اپنا نام بتانا اس سے ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔2 (بحار الانوار جلد ۶ صفحه (۷۴۸) حضرت علی نے جب خیبر کے قلعہ کے پاس جا کر جھنڈا گاڑا تو ایک یہودی نے پوچھا۔اے صاحب علم ! تم کون ہو؟ اور تمہارا نام کیا ہے؟ آپ نے کہا۔علی بن ابی طالب۔اس نے مسلمانوں کو مخاطب ہو کر کہا۔موسیٰ کی کتاب کی قسم آج تم غالب آؤ گے۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۴۲) عوام کے اس ہر اس اور بددلی کے باوجود سرداران خیبر ابھی بھی مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے۔چنانچہ اس روز بھی مرحب للکارتا ہوا میدان میں آیا اور اعلان کیا کہ سرزمین خیبر کو معلوم ہے کہ میں ایک آزمودہ کار جرنیل مرحب ہوں۔حضرت علی نے اس کی للکار کا جواب دیتے ہوئے فرمایا۔