غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 39 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 39

39 رسول اللہ میر کی نہ صرف دعا ئیں ، تدبیریں اور زبردست جنگی حکمت عملی کار فرما تھی۔اور آپ نہ صرف بنفس نفیس اس لشکر میں موجود تھے۔بلکہ خیبر کے پہلے ہی روز آپ نے دو زر ہیں اور حفاظتی خود پہنا اپنے ” طرب" نامی گھوڑے پر سوار ہو کر ہاتھ میں نیزہ اور ڈھال لئے میدان جنگ میں اترے اور زبردست جنگ کی اور ایک بہترین قائد حرب کے طور پر آئندہ دنوں میں اپنے صحابہ کو میدان جنگ میں لڑنے کا ایک شاندار نمونہ دیا۔(سيرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ۳۹ ۴۰) لہذا آپ کی موجودگی میں فتح کا سہرا کسی اور کے سر باندھنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔پس خیبر کی فتح کا خوبصورت تاج پوری شان سے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سجا ہوا ہے کیونکہ یہ فتح آپ کی دعاؤں اور گریہ و زاریوں کی فتح تھی۔یہ آپ کی دور اندیشی بصیرت، شجاعت و بہادری او العزمی اور ثابت قدمی ایسے خلق عظیم کی فتح تھی۔فاتح خیبر حضرت علی : ہاں اس میں بھی شک نہیں کہ خیبر کی ایک جزوی فتح حضرت علی کے ذریعہ سے ہوئی لیکن یہ بات دلچسپ اور قابل ذکر ہے کہ اس فتح کے دیباچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور تدبیروں کے ساتھ حضرت عمرہ کی ایک کامیاب کوشش کا بھی دخل ہے۔واقعہ یوں ہے کہ خیبر کے محاصرے کی ساتویں رات مسلمانوں کے لشکر کے گرد حضرت عمرؓ ایک حفاظتی دستے کے ساتھ پہرہ پر مامور تھے۔اسی اثناء میں آپ نے ایک یہودی کو لشکر گاہ کے قریب گھومتے ہوئے پکڑ لیا اور اسے نبی کریم میں ان کی ویلیو کے پاس لے آئے۔آنحضرت میں اس وقت نماز تہجد میں مصروف تھے اور دعائیں کر رہے تھے۔اس یہودی کو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس نے قلعہ میں