غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 38 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 38

38 سے پہلے فتح ہونے والے قلعہ ناعم کا فاتح حضرت علی کو قرار دیا ہے اور بعض نے قلعہ قموص کا فاتح حضرت علی کو بیان کیا ہے۔تاریخی لحاظ سے پہلا قول زیاده درست معلوم ہوتا ہے۔جسے طبری ابن ہشام صاحب الحلبیہ اور زرقانی کی تائید حاصل ہے۔فتح خیبر کے ذکر کے ساتھ حضرت علی کا نام نامی زبان زد خلائق ہے اور بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان سعادت ہے جو حضرت علی کے لئے مقدر تھی لیکن افسوس کہ شیر خدا حضرت علی کا یہ کارنامہ بعض لوگوں نے افراط و تفریط کی راہ اختیار کر کے مشتبہ کرنے کی کوشش کی ہے۔بعض نے تو غلو کرتے ہوئے کہا کہ قلعہ خیبر جسے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی فتح نہ کر سکے۔حضرت علی نے اس کا بہت بڑا دروازہ اکھیڑ کر بائیں ہاتھ میں بطور ڈھال کے پکڑ لیا اور لڑتے رہے۔یہاں تک کہ فتح پائی۔بعد میں ستر آدمی بھی اس دروازے کو ہلا نہیں سکے۔ایک دوسرے گروہ نے در خیبر اکھاڑنے کی روایات بے اصل ، دروغ اور باطل قرار دی ہیں۔(سیرة الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۴۳٬۴۴) حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کی آراء میں اعتدال نہیں۔کتب سیرت کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ بلا حقیقت نہیں اور تحقیق سے بالا خروہ سراغ مل جاتا ہے جو در خیبر (اکھاڑنے) کی پہیلی کا دلچسپ اور خوبصورت حل ہے۔فتح خیبر کے ضمن میں یاد رکھنا چاہئے کہ خیبر کے مختلف قلعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ مختلف جرنیلوں کے ہاتھ پر فتح ہوئے۔ان میں سے ناعم کا قلعہ وہ تھا جو حضرت علی کے ہاتھ پر فتح ہوا اور جس سے خیبر کی مبارک فتح کا آغاز ہوا۔یہ عام دستور ہے کہ سالار لشکر کے ماتحت کسی جرنیل کی فتح و شکست اس سپہ سالار کی ہی فتح و شکست ہوا کرتی ہے۔اور حق یہ ہے کہ فتح خیبر میں