غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 37
37 وطیع اور سلالم کے آخری دو قلعوں کا محاصرہ چودہ روز تک جاری رہا۔یہودی سردار صلح پر راضی ہو گئے۔(سیرۃ الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۴۸٬۴۷) محاصرہ کے بعد مسلمانوں کو ایک یہوری کے ذریعہ اہل قلعہ کی زمین دوز نہروں کا پتہ چلا جن کا پانی روک دینے کے نتیجہ میں اگلے روز یہود نے قلعوں سے باہر نکل کر زبردست لڑائی کی اور بالاخر حضرت علی کی قیادت میں یہ قلعہ فتح ہوا۔انہی قلعوں میں سے ایک منجنیق بھی مسلمانوں کے ہاتھ آئی جو باقی قلعوں کی فتح میں کام آئی۔قلعوں کا دوسرا سلسلہ شق نامی تھا جس میں سے ابی بری وغیرہ قلعے تھے۔جو آسانی سے فتح ہوئے۔قلعوں کا آخری سلسلہ کیتبہ کہلاتا تھا جس میں تین قلعہ قموص ، وصیح اور سلالم تھے یہودی پسپا ہو کر قلعہ قموص میں پناہ گزیں ہو گئے تھے جو خیبر کا سب سے بڑا قلعہ اور محفوظ ترین تھا۔ہمیں روز تک مسلمانوں نے اس کا محاصرہ کیا جس کے بعد یہ قلعہ فتح ہوا اسی قلعہ سے زینب بنت حیی بن اخطب قید ہو ئیں جو بعد میں حضرت صفیہ کہلائیں اور ام المومنین کا بلند مرتبہ پایا۔وضیع اور سلالم کے آخری دو قلعوں کا محاصرہ چودہ روز تک جاری رہا۔بالاخر یہودی سردار صلح پر راضی ہو گئے۔(سیرة الحلبيد جلد ۳ صفحه ۴۸٬۴۷) خیبر کے قلعوں میں سے دو قلعے بڑی جد و جہد سخت محاصرہ اور جنگ کے بعد فتح ہوئے ان میں سے ایک ناعم کا پہلا قلعہ ہے اور دوسرا قموص کا مرکزی اور آخری فتح ہو نیوالا قلعہ۔نائم کا قلعہ وہ ہے جہاں یہود کی ساری طاقت جمع ہو کر آگئی تھی اور جو سب سے پہلے سات دن کے محاصرہ اور جنگ کے بعد فتح ہوا جب کہ قموص کا قلعہ ہیں دن کے محاصرہ کے بعد سب سے آخر میں فتح ہوا۔اہل سیر و تاریخ نے ان دونوں قلعوں کی فتح کو خلط ملط کر دیا۔بعض نے