غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 36 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 36

36 جس سے وہ اپنا محاصرہ لمبا کھینچ سکتے تھے دشمن کو دے دیا اور اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی کہ یہ بکریاں محصور دشمن کے حوالے کرنے سے اس کی مہینوں کی غذا بن سکتی ہے۔اس موقعہ پر کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ اس حبشی کے قبول اسلام کا باعث ایک بڑی فوج کا خوف یا طمع بھی ہو سکتا ہے مگر اس نو مسلم کا اپنا طرز عمل اس اعتراض کا جواب ہے چنانچہ جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تالیف قلب کی خاطر کچھ انعام دینا چاہا تو اس نے انگلی سے اپنی گردن کی طرف اشارہ کر کے کہا مال کے لئے نہیں میں تو شہادت اور جنت کے لئے مسلمان ہوا ہوں۔اور آفرین ہے اس مرد حق پر کہ مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو کر اسی روز وہ جانثار شہید ہو گیا۔مسلمان اس کی نعش اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لائے تو رحمت دو عالم نے اس حبشی غلام کو کتنے پیارے لفظوں میں داد تحسین دی فرمایا۔عَمِلَ قَلِيلاً وَ أجِرَ كَثِيرًا (بخاری کتاب الجهاد) یعنی کیا ہی خوش قسمت ہے یہ غلام کہ تھوڑا عمل کیا اور اجر بہت پایا۔اسلام پر جبر کا الزام لگانے والوں سے پوچھنا چاہئے کہ وہ کیا مال غنیمت تھا جس کیلئے اس حبشی کو مسلمان کیا گیا؟ اور وہ کونسی تلوار تھی جس نے اس حبشی غلام کا دل جیتا؟ قلعہ ہائے خیبر : خیبر قلعے کو کہتے ہیں اور یہ دراصل محفوظ قلعوں کا ایک سلسلہ تھا۔پہلا سلسلہ نطاہ کہلاتا تھا جس میں تین قلعے نائم صعب اور قتہ تھے۔ان قلعوں کے چند روز اس کا محاصرہ کیا جس کے بعد یہ قلعہ فتح ہوا۔اس قلعہ سے زینب بنت حیی بن اخطب قید ہوئیں جو بعد میں ام المومنین حضرت صفیہ کہلائیں۔