غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 33
33 کریم میں یہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میرے بھائی محمود کو یہودیوں نے زیادتی سے قتل کیا ہے میں اس کا انتقام لے کر رہوں گا۔کوئی اور جرنیل ہو تا تو دشمن کے خلاف اپنے سپاہی کے اس جوش و غیرت کو سراہتا مگر اس موقع پر بھی صبر و استقامت کے اس علمبردار نے اعتدال کا کیسا عمدہ سبق دیا۔”دشمن سے مقابلہ کی خواہش نہیں کرنی چاہئے اور خدا سے عافیت مانگتے ہوئے ابتلا سے بچنا چاہئے اور جب دشمن سے مقابلہ ہو تو پھر دعا اور تدبیر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو اور یہ دعا کرو اللهُمَّ انْتَ رَبَّنَا وَ نَوامِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ وَإِنَّمَا تَقْتُلَهُمْ أَنْتَ (سیرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ۴۰) اے اللہ تو ہی ہمارا رب ہے! ہم اور ہمارے دشمن سب تیرے قبضہ قدرت میں ہیں۔اب تو ہی ان کو مارے تو مارے۔اگلے دن اسلامی لشکر کی کمان رسول اللہ علیم کے حدی خوان عامر کے ہاتھ میں تھی۔وہ مرحب کی للکار کا جواب دیتے ہوئے میدان مقابل میں نکل کر لڑنے لگے مگر اپنی ہی تلوار سے ایک ایسا کاری زخم آیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔بعض لوگوں نے عامر کی شہادت کو جو ان کی اپنی تلوار سے ہوئی تھی خود کشی سے تعبیر کیا۔عامر کے بھتیجے حضرت سلمہ بن الاکوع یہ سنکر بہت غمگین ہوئے وہ بیان کرتے ہیں اس حالت میں کیا دیکھتا ہوں۔میرے آقا محمد علی کریم میرا ہاتھ پکڑ کر سہلاتے اور فرماتے ہیں کہ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عامر کے بارہ میں لوگوں کے خیال کا ذکر کیا۔صادق و مصدوق محمد علی کریم نے فرمایا جس نے بھی یہ کہا غلط کہا ہے۔پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں ملا کر فرمایا عامر کیلئے دو ہرا اجر ہے وہ تو جہاد کرنیوالا ایک عظیم الشان مجاہد تھا۔(بخاری کتاب المغازی) الله