غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 30
30 ہے کہ آپ دشمن پر بغیر مناسب انتباه و انذار (وارننگ اور الٹی میٹم کے حملہ نہ کرتے تھے۔بے شک آپ دشمن کو حالت جنگ میں جنگی حکمت عملی کے طور پر اچانک حملہ آور ہو کر سر پر ائز تو دیتے تھے لیکن شب خون سے نہ صرف منع فرماتے بلکہ آپ کا یہ خلق عظیم حیرت انگیز ہے کہ دشمن کے سر پر پہنچ کر بھی دن کی روشنی کا انتظار کرتے ہیں۔خیبر کے قلعے تین حصوں میں تقسیم تھے ہر حصہ میں تین چار قلعے تھے۔مسلمان نظام نامی قلعوں کے سلسلہ کے پاس اترے لیکن آنحضرت میں نے حضرت حباب بن المنذر کا مشورہ قبول فرماتے ہوئے اس سے بہتر پڑاؤ کی جگہ تلاش کروا کے قلعوں سے کچھ ہٹ کر پڑاؤ کیا۔تاکہ دشمن کے تیروں کی زد سے محفوظ رہیں۔(سيرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ۳۹) مسلمانوں کے پڑاؤ کے بعد یہود خیبر قلعہ بند ہو کر لڑائی کے لئے تیار ہو گئے۔مگر آنحضرت میں ادا کیا اور اب بھی صلح کی راہیں ڈھونڈتے اور کشت و خون سے بچنے کے راستے تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت لیلی لیلی نے حملہ سے پہلے یہودی نخلستان سے قریباً چار سو درخت کٹوائے کہ شاید اس طرح یہودی ہراساں ہو کر صبح کی طرف مائل ہوں لیکن یہودی سردار بغض و عناد سے بھر پور اپنی طاقت کے نشہ میں چور اہل خیبر کو جنگ کے لئے تیار کر چکے تھے۔تمام جنگجو مرد قلعہ نائم میں جمع ہو گئے اور عورتوں بچوں کو محفوظ و مضبوط مرکزی قلعہ قموص میں بھیج دیا اور جنگجو جوان قلعہ نطاہ میں جمع ہو گئے۔(سیرۃ الحلبیہ جلد ۲ صفحہ ۳۹) جنگ کا آغاز : جب رسول اللہ مال کو یقین ہو گیا کہ یہودی مقابلہ پر ہی تلے ہوئے ہیں تو آپ نے صحابہ کرام کو وعظ و نصیحت فرماتے ہوئے جہاد کی ترغیب دلائی اور ہدایات دیں۔