غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 22
22۔نے دوسرا پڑاؤ خیبر سے تین میل ادہر صباء مقام پر کیا۔یہاں نماز عصر کے بعد حضور نے کھانا طلب فرمایا اور اپنے سپاہیوں سے فرمایا کہ جس کے پاس جو زاد راہ ہے وہ لے آئے۔ہم سب مل کر کھانا کھائیں گے۔دستر خوان بچھائے گئے اور کھانا چنا گیا۔میرے آقا کا وہ کھانا کیا تھا؟ جو کے ستو اور کچھ کھجوریں۔جو آپ نے اپنے خدام کے ساتھ مل کر تناول فرمائیں۔i- بخاری کتاب المغازی - تاریخ الخمیس جلد صفحه ۴۳) كُلُوا جَمِيْعًا کا یہ نظارہ کتنا دلکش ہے جس میں آقا اپنے غلاموں کے ساتھ کمال سادگی ، انکساری اور بے تکلفی سے ستو اور کھجور کا ماحضر تناول کرتا نظر آتا ہے۔راستہ کا انتخاب : خیبر کے قریب پہنچ کر اس اچانک اور راز دارانه پیش قدمی میں زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی۔چنانچہ صہباء میں مغرب و عشاء کی نمازوں کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دونوں رہنماؤں کو بلا کر فرمایا کہ اب مجھے ایسے راستے سے خیبر پہنچا دو جو قبائل غطفان اور خیبر کے درمیان سے گزرے۔رہنمائے سفر آپ کو ایک چوراہے پر لے آیا اور کہا یہ چاروں راستے خیبر جاتے ہیں۔آنحضرت علی نے ان راستوں کے نام اور ان کے درمیان پڑنے والی آبادیوں کی تفصیل پوچھی۔پہلے تینوں راستے جو اپنے ناموں احزن شائس وغیرہ کے معنی و مفہوم باعث بھی نیک شگون نہ تھے آپ نے اختیار نہیں فرمائے اور چوتھا راستہ جسے مرحب کہتے تھے پسند فرمایا۔حضرت عمر نے اس موقع پر رسول اللہ می وی کی بصیرت کی خوب داد دی۔اس رہنما سے کہنے لگے۔تو نے یہ چوتھا راستہ سب سے پہلے کیوں نہ بتا دیا۔تاريخ الخميس جلد ۲ صفحہ ۴۳ ۴۴)