غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 13 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 13

13۔مدینہ پر حملہ کی تیاری : بنو نضیر کا سردار حی بن اخطب جنگ قریظہ میں مارا گیا اور ابو رافع سلام بن الی الحقیق اس کا جانشین ہوا۔دیگر یہودی سرداروں کے ساتھ مل کر اس نے غزوہ احزاب کے موقع پر قریش کو مدینہ پر حملہ کیلئے تیار کیا تھا۔(زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۶۵) اس نے ۶ھ میں عرب قبائل غطفان کو جو خیبر سے کچھ فاصلے پر جنوب مشرق میں آباد تھے اور ہمیشہ سے یہود کے حلیف تھے مال و دولت کا لالچ دے کر مسلمانوں کے خلاف مقابلہ کیلئے آمادہ کیا۔یہاں تک کہ ایک بہت بڑی فوج لے کر مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کیں۔(دلائل النبوة جلد ۴ صفحه ۳۸) یہود کی سازش جنگ کھل کر سامنے آگئی اور خیبر کا یہودی شاعر سماک اعلانیہ کہنے لگا۔فَإِنْ لَّا اَمَتْ نَأْتِكُمْ بِالْقَنَا وَكُلّ حُسَامٍ مَعًا مُرهف بِكَفِّ كَمِي بِهِ يَحْتَمِي مَتى يَلْقَ قَرْنَالَهُ يَتْلَفَ کہ اگر زندگی نے وفا کی تو اے مسلمانو! ہم تم پر تیز تلواریں اور نیزے لے کر حملہ آور ہوں گے جو ایسے بہادر لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جو مد مقابل کو ہلاک کر کے ہی چھوڑتے ہیں۔اور برملا کہا کہ وقت اور زمانہ مسلمانوں سے جو عادل و منصف بنے پھرتے ہیں بنو نضیر اور ان کے حلیفوں کے قتل کا انتقام لیں گے۔(ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۲۳۳٬۲۲۴)