غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 106 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 106

106 گزرے میں بیٹھا ہوا تھا مگر انہوں نے بھی کوئی تعرض نہ کیا۔اب مجھے صرف اس بات کی شرم تھی کہ میں رسول اللہ مل لیول کو کیا منہ دکھاؤں گا کیونکہ حضور کو دیکھنے سے مجھے وہ تمام باتیں اور اپنی وہ دشمنیاں یاد آجائیں گی، جو میں ہر موقعے پر حضور میلیا کے خلاف مشرکوں کے ساتھ مل کر کرتا رہا تھا لیکن جب میں حضور ملی اسی سے ملا اس وقت وہ مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔آپ کمال شفقت سے میری خاطر رک گئے اور خندہ پیشانی اور بشاشت سے میرے ساتھ ملاقات فرمائی۔تب میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور حق کی گواہی دے دی۔حضور میں نے اس موقعہ پر فرمایا کہ سب حمد اس اللہ کی ہے جس نے تمہیں ہدایت دی۔تمہارے جیسا عظمند انسان اسلام سے کس طرح دور اور اس سے لا علم رہ سکتا تھا۔(سیرت الحلبیہ جلد سوم صفحہ ۱۱۷) الغرض فتح مکہ کے موقع پر صرف چار مجرموں کو سزائے موت دیکر باقی سب کو معاف کر دینا تاریخ عالم کا منفرد واقعہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بے نظیر احسانات کا نظارہ دیکھ کر مشہور مستشرق سرولیم میور بھی انگشت بدنداں ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے:۔اشتہاریان قتل تعداد میں تھوڑے ہی تھے اور شاید وہ سارے ہی اپنے جرائم کی وجہ سے انصاف کے مطابق قتل کے لائق تھے (سوائے ایک مغنیہ کے قتل کے) باقی سب کا قتل سیاسی عناد کی بجائے ان کے جرائم کی بنیاد پر تھا۔محمد کا یہ حیرت انگیز کردار بے مثال فیاضی اور اعتدال کا نمونہ تھا۔لیکن محمد نے جلد ہی اس کا انعام بھی لے لیا اور وہ یوں کہ آپ " کے وطن کی ساری آبادی صدق دل سے آپ کے ساتھ ہو گئی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم چند ہفتوں میں دو ہزار مکہ کے باسیوں کو