غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 105 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 105

105 کا فیصلہ کیا تھا۔فتح مکہ کے بعد پشیمان تھے کہ نامعلوم اب ان کے ساتھ کیا سلوک ہو۔چنانچہ انہوں نے نبی کریم می مالی دیوی کی چا زاد بہن ام ہانی سے معافی کیلئے سفارش چاہی کیونکہ یہ دونوں ان کے سسرالی عزیز تھے۔حضرت ام ہانی نے انہیں امان دے کر اپنے گھر میں ٹھہرایا اور پہلے اپنے بھائی حضرت علی سے ان کی معافی کیلئے بات کی۔حضرت علی نے صاف جواب دیا کہ ایسے معاندین اسلام کو میں خود اپنے ہاتھ سے قتل کرونگا۔تب ام ہانی نبی کریم میں کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔اب دو ظالم دشمنان اسلام کے لئے ایک ایسی خاتون کی امان جو ابھی خود بھی مسلمان نہیں ہوئی کیا حیثیت رکھتی ہے۔مگر جب ام ہانی نے نبی کریم ملی الہ و سلم کی خدمت میں جا کر عرض کیا کہ میرا بھائی علی کہتا ہے کہ وہ اس " شخص کو جسے میں نے امان دی ہے مل کرے گا۔نبی کریم ملی کو حوصلہ دیکھو۔آپ نے فرمایا۔اے ام ہانی جسے تم نے امان دی اسے ہم نے امان دی۔چنانچہ ان دونوں دشمنان اسلام کو بھی معاف کر دیا گیا۔(ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۹۲) حارث بن ہشام کو جو قریش کے سرداروں میں سے تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کا تحفہ دیا۔یہ غزوہ بر موک میں شامل ہوئے اور اسی میں شہید ہوئے۔یہ وہی حارث ہیں جنہوں نے اپنے دوسرے دو زخمی مسلمان بھائیوں عکرمہ اور سہیل کو پیاسا دیکھ کر خود پانی پینے کی بجائے انہیں پلانے کا اشارہ کیا اور یوں ایثار کرتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔(اسد الغابہ جلد اول صفحه ۳۵۱-۳۵۲) الله س حارث بن ہشام کا اپنا بیان ہے کہ جب ام ہانی نے مجھے پناہ دی کہ رسول اللہ میں لی لی لی لی نے ان کی پناہ قبول فرمالی تو کوئی بھی مجھ سے تعرض نہیں کرتا تھا۔البتہ مجھے حضرت عمرؓ کا ڈر تھا لیکن وہ بھی ایک دفعہ میرے ہاں سے