غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 103 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 103

103 اب میں اسلام کے کسی بڑے دشمن کو قتل کر کے حضرت حمزہ کے قتل کا بدلہ چکاؤں گا۔حضرت ابو بکر کے زمانہ میں مسلیمہ کذاب کے باغی اور مرتد ساتھیوں کے ساتھ جنگ یمامہ ہوئی تو مسلیمہ کذاب کو قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچانے والا یہی وحشی تھا جس کا دل محمد مطصفی میلی یم نے محبت سے جیت لیا تھا۔(سیرت الحلبیہ، جلد ۳ صفحه ۱۰۹ او تاریخ الخميس جلد ۲ صفحه ۹۴ دشمن اسلام صفوان پر احسان: صفوان بن امیہ مشرکین مکہ کے ان سرداروں میں سے تھا جو عمر بھر مسلمانوں سے نبرد آزما رہے اور فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے اعلان امن کے باوجود خالد بن ولید کے اسلامی دستے پر حملہ آور ہوئے تھے مگر اسکے باوجود نبی کریم نے صفوان کے لئے بطور خاص کسی سزا کا اعلان نہیں فرمایا۔مکہ فتح ہونے کے بعد یہ خود سخت نادم اور شرمندہ ہو کر یمن کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔کیونکہ اپنے جرائم سے خوب واقف تھا۔اور اپنے خیال میں ان کی معافی کی کوئی صورت نہ پاتا تھا۔اس کے چا عمیر بن وحب نے نبی کریم میں ایم کیو ایم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے تو ہر اسود و احمر کو امان دے دی ہے اپنے چچا زاد کا بھی خیال کیجئے اور اسے معاف فرمائیے۔جب نبی کریم میں نے صفوان کو بھی معاف فرما دیا تو حضرت عمیرہ نے عرض کیا کہ مجھے اپنی امان کا کوئی نشان بھی عطا فرمائیں۔حضور ملی تم نے اپنا وہ سیاہ عمامہ معافی کی علامت کے طور پر اتار کر دے دیا جو فتح مکہ کے روز آپ نے پہنا ہوا تھا۔عمیر نے جا کر صفوان کو معافی کی خبر دی تو اسے یقین نہ آتا تھا کہ اسے بھی معافی ہو سکتی ہے۔اس نے عمیر سے کہا کہ ”تو جھوٹا ہے۔میری نظروں سے دور ہو جا میرے جیسے انسان کو کیسے معافی مل سکتی ہے۔مجھے