غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 91
91 نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہو گا۔میرے لئے صرف اسی وقت اور اسی لمحے لوگوں پر خدا کے غضب کے سبب حلال ہوا ہے اور اب پھر اس کی حرمت بدستور برقرار رہے گی۔تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں وہ غیر حاضر لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں جو شخص تم سے کہے کہ اللہ کے رسول نے مکہ میں جنگ کی ہے تو یاد رکھو اللہ نے اسے اپنے رسول کے لئے حلال کر دیا تھا لیکن (اے بنی خزاعہ) تمہارے لئے حلال نہیں کیا۔اور مجھے بھی صرف ایک گھڑی کیلئے یہ اجازت دی گئی تھی۔" (بخاری کتاب المغازی) اس کے بعد آپ نے بنو خزاعہ کے قاتلوں کو قصاص دینے یا خون بہا قبول کرنے کا پابند کیا اور یوں عملا عدل و انصاف کو قائم فرمایا۔فتح انصار مدینہ سے وفا اور دلداری:۔جب مکہ کی عظیم الشان شبح سے خدا کا رسول اور جماعت مومنین خوش ہو رہے تھے عین اس وقت ایک عجیب جذباتی نظارہ دیکھنے میں آیا۔ہوا یوں کہ کچھ عشاق رسول انصار مدینہ کے دلوں میں یہ وسوسے جنم لے رہے تھے اور ان کے دل اس وہم سے بیٹھے جا رہے تھے کہ ہمارے آقا و رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی فتح کے بعد کہیں اپنے اس وطن مالوف میں ہی مستقل قیام نہ فرمالیں۔جب یہ وساوس قلب و دماغ سے نکل کر زبانوں پر آنے لگے کہ نبی کریم میں لیا ہم نے اہل مکہ سے جس محبت و رافت کا سلوک فرمایا ہے اس سے وطن کے ساتھ آپ کی محبت بھی ظاہر ہے اگر یہ محبت غالب آگئی اور آپ نہیں رہ گئے تو ہمارا کیا ٹھکانہ ہو گا۔کہتے ہیں عشق است ہزار بد گمانی۔دراصل یہ وسوسے انصار مدینہ کے عشق صادق کے آئینہ دار تھے۔کمزوری اور مظلومی کے زمانہ کے ان ساتھیوں کے ٹوٹے دلوں