غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 83 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 83

83 دلوں کی فتح :۔وہ رحمت العالمین اہل مکہ کیلئے امان کا اعلان کرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچتے ہیں اور بعض بد بخت یہ منصوبے بنا رہے ہیں کہ اگر آج اس عظیم فاتح کو قتل کر دیا جائے تو مسلمانوں کی فتح کو شکست میں بدلا جا عمیر ا ہے۔طواف کے وقت ایک شخص فضالہ بن آنحضرت مالی وی کو قتل کرنے کے ارادہ سے آپ کے قریب آیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے ناپاک منصوبے کی اطلاع کر دی۔آپ نے نام لے کر بلایا تو وہ گھبرا گیا۔آپ نے پوچھا کس ارادہ سے آئے ہو ؟ تو وہ جھوٹ بول گیا۔آپ مسکرائے اور اسے اپنے قریب کر کے پیار سے اس کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔فضالہ بعد میں کہا کرتا تھا کہ جب آنحضرت ملی تم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا تو میری تمام نفرت دور ہو گئی اور مجھے ایسے لگا کہ دنیا میں سب سے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔فضالہ نے اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔یہ تھی دلوں کی فتح جو ہمارے آقا و مولا کو فتح مکہ کے دن حاصل ہوئی۔(زرقانی جلد ۲ صفحہ ۳۳۳) طواف کے بعد آنحضرت میں نے عثمان بن طلحہ سے انتقام : کلید بردار کعبہ عثمان بن طلحہ سے بیت اللہ کی چابیاں منگوائیں۔جب حضور کمکے میں تھے تو سوموار اور جمعرات کے دن خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا جاتا تھا اور لوگ اندر جاتے تھے۔ایک دفعہ آنحضرت میں دل کے اندر جانے لگے تو اسی عثمان نے اس پاک رسول کو خدا کے اس گھر میں داخل ہونے سے روک دیا جس کے لئے یہ گھر بنایا گیا تھا۔رسول خدا می دیار کریم نے اس وقت عثمان کو کہا اس خانہ خدا کی چابیاں ایک دن میرے پاس آئیں گی اور پھر جسے میں چاہوں گا دوں گا اور آج وہ دن آچکا تھا اور عثمان بن طلحہ لرزتے ہوئے ہاتھوں سے چابیاں خدا کے رسول میر کو