غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 71
71 کہ ساتویں یا آٹھویں روز اسلامی فوج کے دستے مکہ سے صرف ایک منزل کے فاصلہ پر مر الظہران پہنچ گئے۔" (لائف آف محمد صفحہ ۴۱۶) چنانچہ رسول کریم میں تم نے خداداد فراست کو کام میں لاتے ہوئے جنگی حکمت عملی کا ایک حیرت انگیز منصوبہ بنایا آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ مختلف ٹیلوں پر بکھر جائیں اور ہر شخص آگ کا ایک الاؤ روشن کرے اس طرح اس رات دس ہزار آگیں روشن ہو کر مر الظہران کے ٹیلوں پر ایک پر شکوہ اور ہیبت ناک منظر پیش کرنے لگیں۔(بخاری کتاب المغازی غزوہ الفتح) سرولیم میور لکھتا ہے:۔31 مر الظہران میں دس ہزار آگیں روشن کرنے کا مقصد اہل مکہ میں یاس د نا امیدی پیدا کرنا تھا۔" (لائف آف محمد صفحہ ۱۴۷) پھر لکھتا ہے کہ :۔ایک طرف ابوسفیان نے مکہ والوں کو جاکر اطلاع کی کہ محمد ہمارے سروں پر چڑھ آیا ہے اور ایسی فوج لایا ہے جس کا مقابلہ ممکن نہیں۔دوسری طرف اہل مکہ کے لئے امان کے اعلان سے نتیجہ یہ نکلا کہ مکہ کسی قسم کے خون بہنے سے محفوظ ہو گیا۔" لائف آف محمد صفحه ۴۱۹-۴۲۰) ابو سفیان کو معافی:۔ادھر ابو سفیان اور اس کے ساتھی سردار رات کو شہر مکہ کی گشت پر نکلے تو یہ ان گنت روشنیاں دیکھ کر واقعی حیران و ششدر رہ گئے۔ابو سفیان کہنے لگا خدا کی قسم میں نے آج تک اتنا بڑا لشکر اور آگیں نہیں دیکھیں۔وہ ابھی یہ اندازے ہی لگا رہے تھے کہ اتنا بڑا لشکر کس قبیلے کا ہو سکتا ہے ؟ کہ حضرت عمرؓ کی سرکردگی میں مسلمانوں کے گشتی دستے نے ان کو پکڑ لیا اور آنحضرت علی کی خدمت میں پیش کیا۔