غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 52
52 عزیز اور رشتہ دار ہمارے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے خیال سے میرے دل میں کئی اندیشے اور وسوسے اٹھتے تھے۔اس لئے میں آج ساری رات حضور میں ان کے خیمہ کا پہرہ دیتا رہا ہوں۔یقینا رسول اللہ مال کے یہ عاشق صادق، فدائی اور جاں نثار صحابی ابو ایوب آفرین کے لائق ہیں۔لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ صفیہ تو خود رسول الله علی دیوی کی محبت کی تلوار سے گھائل ہو چکی ہیں۔پھر قربان جائیں اس محسن اعظم میل پر جو کسی کا احسان اپنے سر نہ رکھتے تھے۔اسی وقت دعا کی۔"اے اللہ ! ابو ایوب کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھنا جس طرح رات بھر یہ میری حفاظت پر مستعد رہے ہیں۔" (ابن ہشام جلد نهم صفحه ۴۵) اور ہمارے آقا کی یہ دعا قبول ہوئی۔ابوایوب نے بہت لمبی عمر پائی اور پھر آپ کے مزار کو گردش زمانہ آج تک مٹا نہیں سکی بلکہ وہ آج بھی قسطنطنیہ میں محفوظ ہے اور مرجع خلائق ہے۔(سیرۃ الحلبیہ جلد سوم صفحہ ۵۲) راقم الحروف کو بھی استنبول میں ان کے مزار پر حاضری اور دعا کی توفیق ملی۔حق یہ ہے کہ حضرت صفیہ کے اخلاص و فدائیت کے محرک دراصل آنحضرت می ای ریلی کے اخلاق عظیمہ ہی تھے۔چنانچہ جب حضرت صفیہ پہلی بار خیبر میں حضور کی خدمت میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ پیش ہو ئیں تو بلال ان کو یہودیوں کی بعض لاشوں میں سے لے کر گزرے تاکہ ان پر ہیبت طاری ہو جائے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا۔”اے بلال! کیا تیرے دل سے رحم مٹ گیا ہے جو تو عورت ذات کو ان کے مقتولوں کی لاشوں کے پاس سے لے کر آئے ہو۔" حضرت بلال نے